رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کے فیصلے سے سیاسی تکرار میں شدت کا خدشہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے 16 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ گزشتہ ہفتے ایسے وقت سنایا جب ملک میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور غیر جانبدار مبصرین حتٰی کے خود چیف الیکشن کمشنر نے اس موقع پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں 1990 کے انتخابات میں فوجی مداخلت اور سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو عمومی طور پر ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

لیکن غیر جانبدار سیاسی مبصرین حتیٰ کہ خود چیف الیکشن کمشنر فخرالدین ابراہیم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے 16 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ ایسے وقت سنایا جب ملک میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور ان کے بقول ان حالات میں یہ فیصلہ سیاسی تکرار میں شدت کا باعث بن سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ شواہد کی روشنی میں ثابت ہو گیا ہے کہ مرحوم سابق صدر غلام اسحاق خان، اس وقت کے آرمی چیف اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے 1990ء کے انتخابات میں سیاستدانوں میں بھاری رقوم تقسیم کی تھیں۔
سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ (فائل فوٹو)



عدالت نے وفاقی حکومت کو سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رقوم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے بارے میں بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ سے تحقیقات کرائی جائیں۔

لیکن اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے بارے میں روز اول سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

1990 کے انتخابات میں دھاندلی کا مقصد مقتول بے نظیر بھٹو کو واضح اکثریت حاصل کرنے سے روکنا تھا اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے اپنے بیان حلفی کے ساتھ رقوم حاصل کرنے والے سیاستدانوں کے ناموں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام بھی شامل ہے۔

اس صورت حال میں ماہر قانون دان ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ اگرچہ عدالت عظمیٰ کے مختصر فیصلے میں کسی جماعت یا سیاستدان کا نام شامل نہیں لیکن حکمران پیپلزپارٹی کو انتخابات سے قبل اس فیصلے کا فائدہ پہنچے گا۔

’’انتخابات کے نزدیک ایسا فیصلہ ایک جماعت کو بے حد فائدہ پہنچا رہا ہے وہ ہے پیپلز پارٹی اور وہ اس سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے وہ تو سیاست کا حصہ ہے اسے تو آپ روک نہیں سکتے۔ سیاست میں شارک والی بات ہوتی ہے یعنی خون کا پہلا قطرہ کہیں نظر آ جائے شارک اس پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔‘‘

تاہم مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنماء سینیٹر راجہ ظفر الحق کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی سے رقوم لینے والے سیاستدانوں کے بارے میں تحقیقات کے لیے غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے کیوں کہ ان کی جماعت کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات قابل قبول نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے وزیرداخلہ رحمٰن ملک کی وزارت کے ماتحت کام کرتی ہے اور ان کے بقول وہ اس ادارے کی تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

’’اس فیصلے کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اس حکومت کا سپریم کورٹ کے فیصلوں سے انحراف کا رویہ رہا ہے۔ جب کبھی عدالت عظمیٰ نے ان (پیپلزپارٹٰی) کے خلاف فیصلہ دیا اس میں یہی کہتے رہے ہیں کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ ہم نے سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کی حمایت کی ہے تو اس طریقے سے اب یہ اس کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

پیپلز پارٹی کے قائدین بشمول وزیراعظم راجہ پرویز اشرف یہ کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق تحقیقات کی جائیں گی۔ وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تحقیقات کرے گا نا کہ ان کی ہدایات پر اس لیے مسلم لیگ (ن) کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG