رسائی کے لنکس

وزیراعظم نواز شریف نے انسانی حقوق کی معروف کارکن اور سینئیر وکیل عاصمہ جہانگیر اور سپریم کورٹ بار ایسویشن کے صدر کامران مرتضیٰ کو ٹیلی فون کرکے ان کے بقول جمہوری نظام اور آئین کی حمایت پر دونوں وکلا کا شکریہ ادا کیا۔

اسلام آباد کے مرکز میں احتجاج کرنے والی حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے منگل کو عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وہ شاہراہ دستور پر ججوں اور عوام کی آمدورفت سہل بنانے کے لیے اقدامات کرنے کو تیار ہیں اور اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتے۔

پیر کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرکے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ کے مطابق مظاہرین کو شاہراہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے منگل کو گفتگو کرتے پاکستان عوامی تحریک کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے دھرنے کے لیے دو متبادل جگہیں تجویز کی گئیں تاہم مظاہرین نے شاہراہ دستور سے ہٹنے سے انکار کردیا۔

’’لیڈرشپ اور مظاہرین نے تجاویز مسترد کردیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ شاہراہ دستور سے انصاف لے کر اٹھیں گے اور اس وقت جائیں گے جب 14 افراد کے قتل پر انصاف ملے۔‘‘

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے جواب میں عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے احکامات جاری نا کریں جس سے سیاسی صورتحال مزید خراب ہو جائے۔

’’یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ ایک طرف لوگ ہیں اور ایک طرف حکومت۔ یہ معاملہ سیاسی مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔ اگر سپریم کورٹ نے مداخلت کی تو اس کے احکامات کو حکومت غلط طور پر استعمال کر سکتی ہے اور اگر فورس استعمال کرتی ہے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں اور ایسا نا ہو کہ لاہور والا واقعہ دوبارہ ہوجائے۔‘‘

ادھر وزیراعظم نواز شریف نے انسانی حقوق کی معروف کارکن اور سینئیر وکیل عاصمہ جہانگیر اور سپریم کورٹ بار کے صدر کامران مرتضیٰ کو ٹیلی فون کرکے ان کے بقول جمہوری نظام اور آئین کی حمایت پر دونوں وکلا کا شکریہ ادا کیا۔

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم پر یہ بات واضح کی کہ انہیں کسی کے اقتدار سے جانے یا کسی کے مطالبات سے کوئی غرض نہیں بلکہ وکلا موجودہ سیاسی بحران کا حل آئین کے تحت چاہتے ہیں۔

نواز انتظامیہ اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے درمیان معاملات طے کرنے کے لیے آئین میں ممکنہ ترمیم پر ان کا کہنا تھا۔

’’اس میں ایک برا تاثر جاتا ہے کہ صورتحال کے خدشے کے تحت ایسا ہوا۔ باقی یہ پارلیمان کا حق ہے کہ وہ جب چاہے، جیسی چاہے ترمیم کرے۔ بس آئین کی بنیاد کے متصادم نا ہو۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر اس بارے میں وہ ترمیم کرتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ وکلا ماورائے آئین اقدامات یا ایسے قدم کی مخالفت کریں گے جس سے فوج کی مداخلت ممکن ہو۔

کامران مرتضیٰ نے عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کے تناظر میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG