رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن کی تحلیل و اصلاحات ناگزیر ہیں: قانون ساز


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پیپلز پارٹی کے قانون ساز سعید غنی کہتے ہیں کہ اگر چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہو سکتے ہیں تو ممبران کو بھی استعفیٰ دینا چاہیئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف مبینہ انتخابی دھاندلیوں پر موجودہ الیکشن کمیشن کے تحلیل کے مطالبے کے بعد حزب اختلاف کی بعض دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی کہنا ہے کہ آئندہ انتخابی عمل کے شفاف اور غیر جانبدارانہ انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ کمیشن کے چاروں اراکین مستفی ہو جائیں۔

وائس آف امریکہ سے پیر کو گفتگو کرتے ہوئے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون ساز سعید غنی کہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی و جمہوری نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر انتخابی اصلاحات متعارف کروائیں۔

’’کمیشن کو جتنے فنڈز اور اتھارٹی چاہیئے تھی وہ فراہم کی گئی تو پھر اگر چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہو سکتے ہیں تو ممبران کو بھی استعفیٰ دینا چاہیئے کہ وہ شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہے اور پھر عوام کے سامنے بولیں کہ کیا وجوہات تھی۔‘‘

اتوار کو اسلام آباد میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کے قانونی انداز میں تدارک نا ہونے پر ملک بھر اس کے خلاف احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کیا۔

ان کا الزام تھا کہ موجودہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا اس لیے اس کی تشکیل نو ہونی چاہیئے۔

آئین کے تحت حکومت بھی چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دیگر چار اراکین کو برطرف نہیں کر سکتی بلکہ ایسا صرف کسی سپریم کورٹ کے جج کی طرح سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز رفیق رجوانہ الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ مطالبہ کرنا صحیح نہیں

’’ہارنے والے نے تو الزام لگانا ہے کہ جی اس کا مینڈیٹ ہائی جیک ہوا ہے ۔۔۔۔ مگر یہ کوئی اچھا نہیں۔ نظام کو چلنے دیں نا کہ ہر 6 ماہ بعد اسے پٹڑی سے اتار دیں۔‘‘

ادھر الیکشن کمیشن کی طرف سے پیر کو تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز بھیجنے کے لیے خطوط بھی ارسال کیے گئے۔

انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے سربراہ مدثر رضوی انتخابی اصلاحات کے بارے میں کہتے ہیں۔

’’کمیشن آزاد ہے مگر وہ آزادی اتھارٹی میں نہیں تبدیل ہوئی۔ مثلاً ابھی بھی اس کے رولز صدر منظور کرتا ہے، فنڈز کی فراہمی اور اہلکاروں کی تعیناتی حکومت کرتی ہے۔ پھر عدلیہ کو اپیل سننے کا تو حق ہو نا کہ انتخابات سے متعلق مقدموں سے متعلق حکم امتنائی جاری کرنے کا اور اسے کے علاوہ انتخابات میں تعینات اہلکاروں کے احتساب کا کوئی نظام نہیں۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہل کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمان کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل شروع کرتے ہوئے ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔
XS
SM
MD
LG