رسائی کے لنکس

انتخابی امیدواروں کی جانچ پڑتال کے لیے کمیشن کے مزید اقدامات


الیکشن کمیشن آف پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان

الیکشن کمیشن میں ایک نیا شعبہ بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کی جانب سے پیسے کے استعمال کی نگرانی کرے گا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدواروں کے مالی کوائف کی جانچ پڑتال کے لیے ’’تیز اور فعال‘‘ نظام وضع کرنے کے لیے محتلف سرکاری اداروں سے مدد طلب کی ہے۔

کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اس نظام کے تحت قومی احتساب بیورو، اسٹیٹ بنک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو، کوائف کے اندراج کے قومی ادارے (نادرا) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے والے امیدواروں کے مالی کوائف کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

’’نادرا ہمیں امیدوار اور اس کے اہل خانہ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے گا جس کی بنیاد پر یہ معلومات حاصل کی جائیں گی کہ آیا انہوں نے کوئی بدعنوانی تو نہیں کی یا کسی حکومتی مالیاتی ادارے کے قرضے واپس یا معاف نہ کروائے ہو؟‘‘

چیف الیکشن کمشنر فخر الدین ابراہیم نے اسی حوالے سے قومی احتساب بیورو، اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے سربراہان کو منگل کو الیکشن کمیشن میں بات چیت کے لیے دعوت بھی دے رکھی ہے۔

افضل خان نے بتایا کہ امیدواروں کے کوائف کی جانچ پڑتال کے لیے چودہ دنوں کی مدت متعین کی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن میں ایک نیا شعبہ بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کی جانب سے پیسے کے استعمال کی نگرانی کرے گا۔

’’ہر حلقے میں اہلکار بھیجے جائیں گے جو کہ امیدواروں کی انتخابی مہم کی ویڈیو فلم بنا کر کمیشن کو بھیجے گے جس پر قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا اس شعبے کے لیے ماہر لوگوں کی تقرری کی جائے گی۔

دوسری جانب جیسے جیسے انتخابات کا وقت ریب آرہا ہے ملک میں سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جارہی ہے۔ سیاسی رہنماوں کے اپنے حریفوں کے خلاف بیانات روز بروز تندو تیز ہوتے جارہے ہیں تو سیاسی جوڑ توڑ کی کوششیں بھی اپنے عروج پر ہیں۔

وفاقی وزیر اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ آئندہ ایک ہفتے تک حکومتی اتحاد کی جانب سے نگران وزیراعظم کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔

انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے سوال کے جواب میں کہا ’’ہماری جماعت نے پانچ سال اتفاق رائے سے گزارے۔ ہم جذباتی فیصلے نہیں کرتے۔ اگر آج بھی کوئی جماعت الگ انتخاب لڑنا چاہتی ہے تو انتخابات ہیں نئے نئے ڈھول تو بجے گیں اب تو سنے گے آپ۔‘‘

حکومت اور تحریک منہاج القران کے درمیان گزشتہ روز مذاکرات میں طے پایا تھا کہ 16 مارچ سے پہلے اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور انتخابات 60 روز کے اندر کرانے کی حمایت کی جائے گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG