رسائی کے لنکس

ادھر جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے آزاد رکن قومی اسمبلی جمال لغاری اور اویس لغاری نے اپنے علاقے کے تین نو منتخب آزادی رکن صوبائی اسمبلی کے ہمراہ مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں 11 مئی کے انتخابات میں وفاق اور پنجاب میں اکثریتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں جہاں آزاد امیدواروں کی شمولیت سلسلہ جاری ہے وہیں جمعہ کو سندھ سے نیشنل پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ میں ضم ہونے کا اعلان کیا ہے۔

انتخابات میں اس جماعت کو قومی اسمبلی کے لیے سندھ سے دو نشستیں حاصل ہوئی ہیں جب کہ سندھ اسمبلی کے لیے بھی اس کے دو امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

پارٹی کے رہنما مرتضیٰ جتوئی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ان کی جماعت کے سندھ اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والے تین ارکان کی ابتدائی کامیابی کے اعلان کے بعد اُن کی شکست کا اعلان کیا گیا ہے جس بنا پر انھوں نے دوبارہ گنتی کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گوکہ الیکشن کمیشن سمیت غیر ملکی مبصرین بھی انتخابات کی شفافیت پر اطمینان کا اظہار کرچکے ہیں لیکن ان کے بقول جن علاقوں سے دھاندلی کی شکایات آرہی ہیں کمیشن کو وہاں ضرور توجہ دینی چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے ایک بار پھر کہا ملک میں جس بھی جماعت کو جس بھی صوبے اکثریت حاصل ہوئی ہے اسے حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہیے اور ان کی جماعت عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے۔

ادھر جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے آزاد رکن قومی اسمبلی جمال لغاری اور اویس لغاری نے اپنے علاقے کے تین نو منتخب آزادی رکن صوبائی اسمبلی کے ہمراہ مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

جمال اور اویس سابق صدر فاروق لغاری کے صاحبزادے ہیں اور یہ دونوں پرویز مشرف کی حکومت میں مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG