رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے درمیان ’ابہام دور‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابات میں مشترکہ اُمیدوار کھڑے کرنے کے حوالے سے ابہام کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔

پاکستان میں آئندہ انتخابات کے سلسلے میں ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے اعلٰی سطحی وفد اور حکمران اتحاد میں مسلم لیگ (ق) کے قائدین کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں انتخابی اتحاد کے حوالے سے اختلاف دور کرنے پر بات چیت کی گئی۔

اس مشاورتی اجلاس میں شامل مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنماء سینیٹر کامل علی آغا نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اجلاس اس لیے بہت اہم تھا کہ وزیراعظم اور چوہدری شجاعت حسین نے مشترکہ طور پر اس کی صدارت کی اور اس میں یہ قطعی طور پر فیصلہ ہو گیا کہ آئندہ الیکشن ہم نے مل کر لڑنا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابات میں مشترکہ اُمیدوار کھڑے کرنے کے حوالے سے جو ابہام تھا وہ بات چیت کے ذریعے حل ہو گیا ہے۔

کامل علی آغا نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے انتخابی تیاری کے سلسلے میں مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

’’فیصلہ یہ ہوا کہ روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتوں کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا اور معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ کسی طور پر بھی کوئی ابہام نہ ہو اور ہم آگے بڑھتے چلے جائیں اور فیصلے کریں۔‘‘

پاکستان میں آئندہ انتخابات مئی میں متوقع ہیں لیکن ابھی تک سرکاری طور پر اس حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات کے انعقاد میں کسی طرح کی تاخیر نہیں ہو گی۔

اُدھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے رواں ہفتے حزب اختلاف کی ان جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کے لیے ایک اجلاس بلایا ہے جنہوں نے پیر کو کمیشن اور جمہوری عمل کے تسلسل کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے علامتی دھرنا دیا تھا۔

حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے قانون ساز الیکشن کمیشن سے اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمان کے سامنے جمع ہوئے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں کراچی میں انتخابی فہرستوں کی گھر گھر جا کر تصدیق کے عمل پر کچھ تحفظات بھی ہیں جنہیں وہ کمیشن کے سامنے اُٹھائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سات جنوری کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں کو بلایا گیا ہے تاکہ ان کے تحفظات پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔
XS
SM
MD
LG