رسائی کے لنکس

اسلامی تعلیمات کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالوں کا مقصد ایک لحاظ سے اچھا ہے کہ چلیں باقی سب کو بھی بھولی ہوئی آیات یاد آ جاتی ہیں۔

قوم کی تقدیر بدلنے کے نعروں، انقلاب کی ہاؤ ہو اور دشنام ترازیوں کا شورو غوغا جاری ہے اور یہ سب بے محل نہیں کہ جہمور کو ایک بار پھر ’’جمہوریت کے ثمرات‘‘ سے فیض یاب کرنے کے لیے خوابوں کے بیوپاری اپنی اپنی دکانیں سجا چکے ہیں۔

انتخابات کے مہا میلے کی تیاریاں جس زور شور سے جاری ہے یہ اپنی جگہ عوام کے لیے کسی دلچسپی اور تفنن طبع سے کم نہیں جسے ملک کا ’’آزاد میڈیا‘‘ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو نبھا کر اور پر رونق بنا رہا ہے۔

امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل اور رٹرننگ افسران کی طرف سے ان کے ’’پاکیزگی و راست بازی‘‘ جانچنے کے لیے پوچھے جانے والے سوالات توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

جعلی تعلیمی اسناد پیش کرنے کی پاداش میں متعدد قانون ساز قانون کی گرفت میں آچکے ہیں۔

انتخابی مہم میں جلسوں اور ان سے بڑھ کر 50 سے زائد مختلف نجی ٹی وی چینلز پر جلوہ گر ہونے والے قوم کے ’’غم خوار‘‘ پھر اپنا اپنا سودا بیچتے نظر آ رہے ہیں۔

اس سارے طرفہ تماشے میں حیرتوں کے بے شمار پہلو ذہنی تھکاوٹ کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں اور وہ یہ کہ سنتے تو یہی رہے ہیں کہ سیاست دانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے۔ یہ بات کسی حد تک تو بجا ہے لیکن یہ ایک دوسرے پر کیچڑ اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی روایت تو جوں کی توں کی نظر آرہی ہے۔

دوسری جانب اسلامی تعلیمات کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالوں کا مقصد ایک لحاظ سے اچھا ہے کہ چلیں باقی سب کو بھی بھولی ہوئی آیات یاد آجاتی ہیں لیکن جنہوں نے قانون سازی کرنی ہے ان سے یہ تو پوچھا جائے کہ میاں آئین پاکستان عوام کے بنیادی حقوق کی بابت کیا کہتا ہے کہ بالآخر اسمبلی میں جانے کی خواہش ’’عوام کی خدمت‘‘ ہی کے لیے تو بیدار ہوئی تھی۔

جعلی ڈگریاں اور غلط بیان حلفی جمع کرانے والے سزا کاٹیں گے، جرمانے دیں گے اور چند برسوں تک خود کو نااہل قرار دیے جانے کا زخم بھرنے میں صرف کریں گے لیکن پھر بعد میں ’وکٹری‘ کا نشان بناتے ہوئے آنے والے وقتوں میں کسی ایسے ہی مہا میلے میں نمودار ہوکر کہیں گے کہ ’ ہم نے جمہوریت کے لیے جیلیں‘ کاٹیں۔

سنا تو یہی ہے کہ کسی بھی جرم میں سزا یافتہ عام شہری پھر زندگی بھر کسی سرکاری ملازمت کا بھی اہل نہیں رہتا لیکن خیر چھوڑیے سیاست کے ایک ’’مرد میدان‘‘ کا قول ہے ’مٹی پاؤ‘۔
XS
SM
MD
LG