رسائی کے لنکس

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ حکومتیں ہمیشہ اکثریت کے ساتھ بنتی ہیں لیکن ’’چلتی صرف بہتر حکمت عملی کے ساتھ ہیں۔‘‘

پاکستان میں الیکشن کمیشن نے 11 مئی کے انتخابات کے قومی اسمبلی کے 261 حلقوں کے ابتدائی نتائج کا اعلان کر دیا ہے جن کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے 124 اُمیدوار کامیاب ہوئے۔

تاہم آزاد اُمیدواروں کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو بھی آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے اُمیدواروں نے نواز شریف سے ملاقات کی۔

اُدھر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر کے سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن



پاکستان کی قومی اسمبلی کے 342 اراکین کے ایوان کے لیے 272 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں اور ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 137 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما شہباز شریف نے کہا کہ اُن کی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔

’’قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو سادہ اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ ‘‘



جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہباز شریف کی پیش کش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ

’’اکثریت کے ساتھ ہمیشہ حکومتیں بنتی ہیں لیکن چلتی نہیں ہیں، چلتی بہتر حکمت عملی کے ساتھ ہیں، ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ ہم چاہیں گے کہ ملک کو (مسائل سے ) نکالیں۔‘‘

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ اُن کی جماعت قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں کامیاب ہونے والی تمام جماعتوں کا مینڈیٹ تسلیم کرتی ہے اور اسی بنا پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت تحریک انصاف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وہاں حکومت سازی کرے۔

خیبر پختونخواہ میں حکومت سازی کے لیے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کا جماعت اسلامی اور آفتاب شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی سے اتحاد ہو چکا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG