رسائی کے لنکس

پاکستان میں قبل از وقت انتخابی ماحول : سیاسی تاریخ میں نئی کروٹ


پاکستان میں قبل از وقت انتخابی ماحول : سیاسی تاریخ میں نئی کروٹ

پاکستان میں قبل از وقت انتخابی ماحول : سیاسی تاریخ میں نئی کروٹ

پاکستان میں اس بار قبل از وقت انتخابی ماحول تشکیل پاگیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیانات سنیں تو یوں لگتا ہے کہ گویا انتخابات ایک دو ماہ میں ہونے جارہے ہوں حالانکہ عام انتخابات میں ابھی ایک سال سے بھی زیادہ کا عرصہ پڑا ہے لیکن انہوں نے ابھی سے یہ باور کرادیا ہے کہ اگر آئندہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو شدید احتجاج اور تمام شہروں کو جام کردیا جائے گا۔سیاسی اور غیر سیاسی مبصرین کے مطابق ’ان کے کچھ اور بیانات سنیں تو لگتا ہے کہ انہوں نے وہ بیانات بھی پہلے ہی دے دیئے ہیں جو انہیں انتخابات کے بعددینے چاہئیں تھے ۔‘

عمران خان پشاور سے انتخاب لڑیں گے!!

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما افتخار خان جھگڑا نے تو پیر کو پشاور میں یہ اعلان تک کرڈالا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست این اے ون پشاور سے انتخاب لڑنے کی توقع ہے۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ25 دسمبر سے قبل تحریک انصاف کی تنظیم سازی کا عمل مکمل ہوجائے گا جس کے بعد چاروں صوبوں میں صوبائی کابینہ کی تشکیل ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدواروں کے ناموں کے لئے مرکز میں 15اور صوبے میں 5رکنی کمیٹی بنائی جائے گی۔

این اے ون پشاور ون۔۔ قومی اسمبلی کا وہ اہم حلقہ ہے جہاں سے سابق مرحوم وزیراعظم بے نظیر بھٹو ،خان عبدالقیوم اور موجودہ وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

سیاسی تاریخ میں نئی کروٹ

ملکی سیاست میں ان دنوں جس تیزی سے نئے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں اس سے واضح ہورہا ہے کہ اگرچہ ملک میں قاعدے کے مطابق سن 2013ء میں عام انتخابات ہوں گے مگرتقریباً ہر سیاسی جماعت ایک سال پہلے ہی انتخابات کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تقریباً 65سالوں میں کبھی بھی انتخابات کی اتنی جلد تیاریاں شروع نہیں ہوئیں جتنی اس بار ہوتی نظر آرہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی جیسی اہم اور بڑی جماعتوں کے شہرشہرجلسے ، جلوس اور مختلف اہم سیاسی رہنماوٴں کی ایک جماعت سے دوسری جماعت میں شمولیت کے نت نئے اعلانات سن کرپہلی نظر میں ایسالگتا ہے گویا آئندہ چند ماہ میں انتخابات ہونے جارہے ہوں۔

تحریک انصاف ہر معاملے میں پیش پیش

موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو اس وقت ملک میں سب سے اہم جماعت پاکستان تحریک انصاف بنتی نظر آرہی ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس کے ہر روز نئے نئے بیانات اور سیاسی سرگرمیاں تو سامنے آہی رہی ہیں۔ مختلف سیاسی قدآور شخصیات کی پی ٹی آئی میں شمولیت نے بھی اسے خبروں میں انتہائی اہمیت دے دی ہے۔پیر کو تحریک استقلال کے بانی ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ ان سب سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ایک عام ذہن میں یہ خیال ضرور ابھر رہا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی صورت میں ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت ابھر رہی ہے؟

تحریک انصاف : تیسری بڑی سیاسی قوت ؟نئی بحث

فی الوقت ملکی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں میں ایک نئی سوچ زیر بحث ہے کہ کیا تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت یا ایک طاقتور بلاک بن کر ابھر رہی ہے؟ اس بحث کا نتیجہ کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرسکے گا تاہم یہ طے ہے کہ تیسری وقت کا نظریہ تشکیل پا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر نجیب ہارون کا وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ان کی جماعت تیسری بڑی سیاسی قوت بن کرابھر رہی ہے جبکہ آئندہ الیکشن میں یہ تیسری نہیں بلکہ پہلی بڑی قوت بن کر نمودار ہوگی۔یہ صرف حکمراں جماعت کے لئے ہی نہیں مسلم لیگ ن لیگ کے لئے خطرہ ہے کیوں کہ ان دونوں نے عوام کو اب تک مایوس ہی کیا ہے۔“

لیکن۔۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے مشیروقار مہدی کا وائس آف امریکہ سے بات چیت میں کہنا ہے کہ عمران خان پی پی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں ۔پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک سلامت ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن میں بھر پور کامیابی حاصل کرے گی ۔

XS
SM
MD
LG