رسائی کے لنکس

حکومت سے مذاکرات کا وقت گزر گیا ہے: عمران خان


پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان

وزیراعظم نواز شریف نے موجودہ سیاسی صورت حال پر حکومت کی حامی اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کا وقت اب گزر گیا ہے۔

اُنھوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 14 اگست کو اُن کا لانگ مارچ صرف اُسی صورت رکے گا اگر وزیراعظم نواز شریف مستعفی ہو جائیں اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔

’’میں آپ کے سامنے آج دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ (14 اگست کو) پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج دیکھیں گے اور وہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرے گا۔‘‘

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے موجودہ سیاسی صورت حال پر حکومت کی حامی اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں اُنھوں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقات کی۔

پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی بیشتر جماعتیں عمران خان کے اس احتجاج سے لا تعلقی کا اظہار کر چکی ہیں۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے منگل کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے ایک بار پھر حکومت کو یقین دلایا کہ کسی بھی احتجاج سے غیر جمہوری اقدام کو دعوت دینے والوں کے خلاف ان کی جماعت حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

"ہم عوام میں بیٹھ کر جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کرتے رہے ہیں اپنا خون دیتے رہے ہیں اور اب بھی اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہو گا تو پیپلز پارٹی سر پر کفن باندھ کر سامنے آئے گی۔"

تحریک انصاف کے سربراہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات نہ ہونے کے خلاف لاکھوں لوگوں کے ساتھ 14 اگست کو اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیں گے اور ان کے بقول ان کے احتجاج سے نواز شریف کی جماعت کا اقتدار میں رہنا ممکن نہیں رہے گا۔

تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت عمران خان کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہتی آئی ہے کہ وہ انتشار کی بجائے بات چیت سے مسئلے کا حل تلاش کرے۔

اُدھر اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے حکومتی فیصلے پر حزب مخالف کی طرف سے سخت تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ ماہ حکومت کی طرف سے آئین کی شق 245 کے تحت وفاقی دارالحکومت میں تین ماہ کے لیے فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کا مقصد عہدیداروں کے بقول امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی معاونت ہے۔

لیکن حزب مخالف اس فیصلے کو دوسری بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے 14 اگست کو اعلان کردہ احتجاجی مارچ سے نمٹنے کا حربہ قرار دیتی آئی ہے۔

چودھری نثار (فائل فوٹو)

چودھری نثار (فائل فوٹو)

تاہم منگل کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک بار پھر اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے تناظر میں کسی ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا جس کی ان کے بقول آئین وفاق کو اجازت دیتا ہے۔

"آرٹیکل 245 کا نفاذ جو کیا گیا ہے اس کا مقصد عوام کی حفاظت ہے، یہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کسی دھرنے کے خلاف نہیں، فوج شہریوں کی حفاظت کے لیے ہے۔"

مبصرین یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک کے موجودہ حالات خصوصاً سلامتی کی صورتحال میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی جمہوری نظام اور ملک کے لیے مناسب نہیں اور سیاسی قیادت کو تحمل اور تدبر سے کام لینا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG