رسائی کے لنکس

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 2013ء کے انتخابات میں جو کامیابی ملی اب دیگر جماعتیں بھی اُن کی اس ’’سیاسی حیثیت‘‘ کو تسلیم کرتی ہیں

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق عام انتخابات میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 27 نشستیں ملی ہیں اور یہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔

قومی اسمبلی کے لیے تحریک انصاف کے 17 اراکین خیبر پختونخواہ اور آٹھ پنجاب جب کہ ایک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ایک قبائلی علاقوں سے منتخب ہوا۔

تحریک انصاف کو صوبہ خیبر پختونخواہ کی 99 عام نشستوں میں سے 35 پر کامیابی ملی اور وہ صوبے کی اکثریتی جماعت قرار پائی۔ جماعت اسلامی اور آفتاب احمد شیرپاؤ کے ساتھ اتحاد کے بعد اب صوبے میں تحریک انصاف حکومت بنانے جا رہی ہے۔

عمران خان کی جماعت کے 19 اراکین صوبہ پنجاب جب کہ ایک صوبہ سندھ کی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا۔

اگرچہ عمران خان اور اُن کی جماعت کے بعض دیگر سینیئر رہنماء بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دھاندلیوں کا الزام عائد کر چکے ہیں لیکن اس کے باجود اس جماعت کے اکثر رہنما انتخابات میں ملنے والی نشستوں کو اپنی ایک بڑی سیاسی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے حامی

تحریک انصاف کے حامی




جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان کی جماعت ایک نئی مقبول سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ’’تبدیلی‘‘ کے نعرے نے لوگوں کو متاثر ہیں۔
’’خاص طور پر وہ طبقہ جو پڑھا لکھا اور شہروں میں رہتا ہے اور جو نوجوان ہیں وہ (عمران خان) سے متاثر ہوا ہے۔‘‘

احمد بلال محبوب خیبر پختونخواہ میں عمران خان کی جماعت کی کامیابی پر کہتے ہیں کہ بظاہر اس صوبے کے لوگوں کو کسی نئے رہنماء کی تلاش تھی کیوں کہ اُن کے بقول ماضی میں وہاں برسر اقتدار جماعتیں اچھا نظام حکومت متعارف کرانے میں کامیاب نا ہو سکیں اس لیے تحریک انصاف نے اُن کی جگہ لی۔

’’صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں نے پنجاب سے آیا ہوا لیڈر نہیں سمجھا۔۔۔۔ کیونکہ اس سے پہلے کسی صوبے میں اُن کی حکومت نہیں تھی اس لیے وہ کھل کر تنقید کر سکتے تھے اور یہ بھی اُن کی کامیابی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔‘‘

عمران خان اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہہ چکے ہیں کہ اُن کی جماعت کو خیبر پختونخواہ میں جو اکثریت ملی وہ اس صوبے میں ایک مثالی حکومت قائم کرنا چاہیں گے۔

’’جو ہم چاہتے ہیں کہ نئے ادارے، نئی سوچ، بلدیاتی نظام، نیا پولیس کا نظام۔ یہ ہمیں موقع ملا ہے کہ ہم خیبر پختونخواہ میں وہ ماڈل بتائیں جو ہم چاہتے ہیں کہ بعد میں اس پر سارے پاکستان میں عمل ہو۔‘‘




تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 2013ء کے انتخابات میں جو کامیابی ملی اب دیگر جماعتیں بھی اُن کی اس ’’سیاسی حیثیت‘‘ کو تسلیم کرتی ہیں لیکن اُن کے بقول صوبہ خیبر پختونخواہ میں اگر عمران کی حکومت بنتی ہے تو اُن کے لیے جہاں ایک موقع ہو گا کہ وہ ایک ’’مثالی حکومت‘‘ بنائیں وہیں یہ اُن کے لیے ایک بڑی آزمائش بھی ہو گی۔

عمران خان خود بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات کے بعد اب قوم آگے دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال میں تحریک انصاف کو جہاں مرکز میں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ نا صرف بطور اپوزیشن اچھا کردار ادا کر سکتی ہے بلکہ اپنے صوبہ خیبر پختونخواہ میں اتحادیوں کو لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG