رسائی کے لنکس

عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں: عمران خان


عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان (فائل فوٹو)

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انتخابات کو مجموعی طور پر شفاف قرار دیتے ہوئے اس میں الیکشن کمیشن کی طرف سے بعض بے ضابطگیوں کا ذکر کیا تھا۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں جس سقم کا تذکرہ ہے اس کو دور کرنے کے لیے موثر اقدام کیے جانے چاہیئں۔

عمران خان کا یہ الزام تھا کہ مسلم لیگ ن 2013ء کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کر کے اقتدار میں آئی اور اس موقف کو لے کر انھوں نے 126 دن تک اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر احتجاجی دھرنا دیے رکھا۔

حکومت سے مذاکرات کے بعد ان الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل عدالتی کمیشن کے قیام پر اتفاق کیا گیا جس نے تمام الزامات اور شواہد کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ رواں ہفتے حکومت کے حوالے کی تھی۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انتخابات کو مجموعی طور پر شفاف قرار دیتے اس میں الیکشن کمیشن کی طرف سے بعض بے ضابطگیوں کا ذکر کیا تھا۔

ہفتہ کو کمیشن کی رپورٹ پر اپنے باضابطہ ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن نے احسن طریقے سے اپنی کارروائی مکمل کی اور اب ضروری ہے کہ اس کی رپورٹ میں جن کوتاہیوں کا ذکر کیا گیا ہے انھیں دور کیا جائے۔

" سب کے لیے ضروری ہے اس رپورٹ کو پڑھنا، اس میں جو ہم شور مچاتے رہے الیکشن کمیشن اور الیکشن پر یہ چیزیں کبھی سامنے نہیں آنی تھیں یہ صرف ایک کمیشن سامنے لا سکتا تھا۔"

حکومت پہلے ہی پی ٹی آئی کے الزامات کو مسترد کرتی آئی تھی اور کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ یہ کسی فریق کی ہار یا جیت کا معاملہ نہیں لیکن اب ضروری ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنا موقف پارلیمان میں پیش کریں۔

کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر خاصی بحث ہوتی رہی اور بعض حلقوں نے اسے تحریک انصاف کے موقف کی شکست بھی قرار دیا۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کے بعد اب سیاسی ماحول میں ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے۔

سینیئر تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مل کر حکومت کو طرز حکمرانی بہتر کرنے کے لیے مشورے دینے چاہیں اور ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نبر آزما ہونے کے لیے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

الیکشن کمیشن یہ کہہ چکا ہے کہ جن غلطیوں کی طرف عدالتی کمیشن نے نشاندہی کی ہے انھیں دور کرنے کے لیے اقدام کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG