رسائی کے لنکس

جنوری سیاسی اعتبار سے اہم اور سپریم کورٹ خبروں کا منبع ہوگا


جنوری سیاسی اعتبار سے اہم اور سپریم کورٹ خبروں کا منبع ہوگا

جنوری سیاسی اعتبار سے اہم اور سپریم کورٹ خبروں کا منبع ہوگا

پیر کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے این آر او عملدرآمد کیس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور میمو کیس کے مرکزی کردار منصور اعجاز کی پاکستان آمد کے معاملے نے پاکستانی سیاست میں نئی گہماگہمی پیدا کر دی ہے ۔سیاسی تجزیہ نگار اور مبصرین کے نزدیک رواں ماہ کے باقی دن اس گہماگہمی کو بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، یہاں تک کہ اگلے دوہفتے مستقبل کی سیاست کانیارخ متعین کرنے میں بھی بہت اہم رول اداکرسکتے ہیں۔

ان دو ہفتوں کا تاریخ وار جائزہ لیں تو متذکرہ صورتحال کے واضح ثبوت ملتے نظرآتے ہیں۔ آیئے ذیل میں ان کا باری باری جائزہ لیں۔

منگل 17 جنوری کو میمو اسکینڈل میں مرکز نگاہ حسین حقانی کی درخواست کی سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی لارجر بینچ سماعت کرے گا۔اسی روز شام کو سینیٹ اجلاس بھی ہو گا ۔

بدھ 18 جنوری کوسپریم کورٹ نواز شریف فیملی کے نیب میں دائرمقدمات کی بھی سماعت کرے گی جس کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جا چکا ہے ۔شریف خاندان کے خلاف نیب نے حدیبیہ پیپر ملز، حمزہ اسپنگ ملز اور رمضان شوگر ملز سمیت سات اپیلیں دائر کر رکھی ہیں ۔

اسی روز مستعفی سفیر حسین حقانی کی جگہ منصب سنبھالنے والی شیری رحمن بھی امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کریں گی ۔

لاہور ہائی کورٹ میں خالد نعیم لودھی کی سیکریٹری دفاع کے عہدے سے برطرفی کے خلاف درخواستوں کی سماعت بھی اسی روزہو گی ۔

جمعرات 19جنوری کے لئے این آر او عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو طلب کیا ہوا ہے ۔ اسی روز جعلی انتخابی فہرستوں سے متعلق درخواستوں پر 23 ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ میں نوٹس کا جواب دیں گے ۔

جمعہ 20جنوری کو سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن آف سندھ نے صوبہ بھر کے خواجہ سراؤں کو طلب کر رکھا ہے جس میں خواجہ سراؤں کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ ان سے شناختی کارڈ ، ان کی جنس ، مستقل پتہ اور ووٹ کے اندراج کے حوالے سے رائے معلوم کی جائے گی ۔

ہفتہ 21جنوری کو راولپنڈی کی عدالت نے آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری قرار دینے کے خلاف ان کی اہلیہ کی درخواست پر انتہائی اہم سماعت کر رہی ہے ۔ مبصرین کے مطابق پرویز مشرف کی وطن واپسی کا انحصار اس سماعت کے بعد صورتحال پر منحصر ہو گا ۔

اتوار 22جنوری کو لاہور اور راولپنڈی کے بعد مذہبی جماعتیں دفاع کونسل کے پلیٹ فارم پر کراچی میں جمع ہوں گی ۔یاد رہے کہ دفاع کونسل نامی تنظیم حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے باہر آئے ۔ ماضی میں ان کے جلسوں میں جماعت الدعوہ سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود رہی ہے ۔ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر بھی دفاع کونسل تنظیم کو سخت تحفظات ہیں ۔ اس صورتحال میں مذہبی جماعتوں کا آئندہ کا لائحہ عمل بھی سامنے آنے کا امکان ہے ۔

پیر23 جنوری کو قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے میمو کیس میں مرکزی کردار منصور اعجاز،مرکز نگاہ حسین حقانی اور ڈی جی آئی ایس آئی کوبیانات جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے ۔ کمیٹی نے اٹارنی جنرل سے کہہ رکھا ہے کہ وہ بلیک بیری کمپنی کو حسین حقانی کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے خط لکھیں اورکمپنی کا جواب 23جنوری تک کمیٹی کو دیں۔

بدھ 25 جنوری کو سپریم کورٹ کی جانب سے میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے قائم تین رکنی بینچ نے میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز کو طلب کر رکھا ہے ۔ منصور اعجاز پاکستان آمد پر سیکورٹی تحفظات ظاہر کر رہے ہیں اور یہ مہلت انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے خود طلب کی ہے ۔ یاد رہے کہ حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری منصور اعجاز کو بار بار مہلت دینے پر زیادہ خوش نہیں ہیں ۔

جمعرات 26 جنوری کو میمو اسکینڈل پر پارلیمنٹ کی طرف سے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہو گا اور اس میں بھی منصور اعجاز کو طلب کیا گیا ہے ۔

جمعہ 27جنوری سے پیر تیس جنوری کے دوران سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے وطن واپسی کا اعلان کر رکھا ہے ۔ دوسری جانب حکومت ان کی گرفتاری کے لئے تمام تیاریوں کو مکمل قرار دے رہی ہے ۔

XS
SM
MD
LG