رسائی کے لنکس

پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ توہین عدالت سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے جمعرات کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے، جب کہ وفاقی کابینہ کے تمام ارکان نے بھی ’اظہار یکجہتی‘ کے لیے اُن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں بدھ کو وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گیلانی نے کہا کہ اُنھوں نے ہمیشہ عدالت عظمٰی کے احکامات اور فیصلوں کا احترام کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت رواں ہفتے مکمل کرکے جمعرات کو اس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا اور اس موقع پر وزیرِ اعظم کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی تھی۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ وزیرِ اعظم گیلانی سپریم کورٹ کی عمارت کی حدود میں پیدل داخل ہوں گے اور کابینہ کے تمام ارکان بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔

قمر زمان کائرہ

قمر زمان کائرہ

’’اگر وزیر اعظم (اپنے عہدے پر) نہیں رہتے تو پھر کابینہ بھی نہیں رہتی کیوں کہ ہم وزیر اعظم کے وزیر ہیں ... لہذا وہ بھی ہوں گے، ہم بھی ہوں گے انشا اللہ اور یہی ملک کے لیے بھی بہتر ہے (کیوں کہ) ہم نے چیزوں کو آگے کی طرف لے کر چلنا ہے۔‘‘

وزیرِ اعظم کی جانب سے عدالتی فیصلوں کے احترام کے دعوؤں کے باوجود ان کی کابینہ کے وزراء نے سپریم کورٹ کو یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر فیصلہ مسٹر گیلانی کے خلاف سنایا گیا تو ان کے بقول اس سے پاکستان میں جمہوری نظام متاثر ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے بدھ کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ’’کوئی ناخوشگوار‘‘ پیش رفت نہیں ہو گی۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک

وزیر داخلہ رحمٰن ملک

’’ہم سب نے مل کر دیکھنا ہے کہ اس چلتی ہوئی جمہوریت کو کوئی جھٹکا نا دیں۔ خدا نا خواستہ اگر جمہوریت پٹڑی سے اُتر گئی تو پھر شاید، شاید مدتوں تک وہی چیزیں ہوں جو پہلے (آمریت کے ادوار) میں ہوئیں۔‘‘

پاکستان میں اکثرغیر جانبدار مبصرین اور ذرائع ابلاغ نے اپنے تجزیوں میں اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ عدالتی فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف ہوگا اور انھیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

لیکن وکیل صفائی سینیٹر اعتزاز احسن اور حکمران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ وزیرِ اعظم کو توہین عدالت کے الزام سے بری کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے بقول آئین پاکستان مسٹر گیلانی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی بحالی کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں۔

قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی ’این آر او‘ کو کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے مسلسل انکار کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے رواں سال کے اوائل میں وزیر اعظم گیلانی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جمعرات کو فیصلہ وزیرِ اعظم کے خلاف آنے کی صورت میں بھی وہ اس وقت تک اپنے منصب پر قائم رہیں گے جب تک الیکشن کمیشن انھیں پارلیمان کی رکنیت سے نا اہل قرار نہیں دے دیتا۔

اُن کے بقول عدالت کا فیصلہ قومی اسمبلی کی اسپیکر کو بھیجا جائے گا جو اسے الیکشن کمیشن کو بھیجنے یا نہ بھیجنے کی مجاز ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG