رسائی کے لنکس

میمو کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم


میمو کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم

میمو کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم

کمیشن کو موجودہ قوانین کے تحت اندرون ملک اور پاکستان سے باہر مراسلے سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اوروہ تمام فریقین کو اپنا بھرپور موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ عدالت عظمیٰ نے تین رکنی عدالتی کمیشن کو اپنا کام چار ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے میمو اسکینڈل سے متعلق آئینی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکن عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔

عدالت عظمٰی نے جمعہ کو سنائے گئے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار اپنا یہ موقف ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ میمو سے متعلق معاملات کی تحقیقات عوامی اہمیت کی حامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت کے نو رکنی بنچ نے درخواست گزاروں کی استدعا پر اس مراسلے کا نقطہ آغاز، اس کی صداقت اور اسے تحریر کرکے قومی سلامتی کے لیے سابق امریکی مشیر جیمز جونز کے توسط سے ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچانے کے مقصد کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا۔

یہ تحقیقات تین رکنی عدالتی کمیشن کرے گا جس کے سربراہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فیض عیسیٰ ہوں گے جبکہ دیگر اراکین میں سندھ ہائی کورٹ اور اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہیں۔

کمیشن کو موجودہ قوانین کے تحت اندرون ملک اور پاکستان سے باہر مراسلے سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اوروہ تمام فریقین کو اپنا بھرپور موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ عدالت عظمیٰ نے تین رکنی عدالتی کمیشن کو اپنا کام چار ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت عظمی نے سابق سفیر حسین حقانی پر پاکستان سے باہر جانے کی پابندی بھی برقرار رکھی ہے۔

اس مقدمے میں حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر تھیں، جنھوں نے عدالت کے فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی۔

عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر

’’میں سجمھتی ہوں کہ عدلیہ کے لیے آج تاریخ کا ایک سب سے تاریک دن ہے … جس نے قومی سلامتی کو بنیادی حقوق پر فوقیت دی ہے۔‘‘

اُن کے بقول عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے نے پاکستان میں سیاسی حکومت کے مقابلے میں فوج کی برتری ثابت کی ہے۔ ’’آج میں سمجھتی ہوں کہ سویلین اتھارٹی، عسکری اتھارٹی کے نیچے آ گئی ہے۔‘‘

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ میمو کیس میں منصور اعجاز کی طرف سے داخل کردہ جواب کے ساتھ بہت سی دستاویزات بھی نتھی کی گئیں جن میں سابق سفیر حسین حقانی کے ساتھ بلیک بیری کے ذریعے اُن کے پیغامات کے تبادلے شامل ہیں اور جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دونوں اشخاص 9 سے 12 مئی کے دوران مسلسل رابطے میں تھے۔

فیصلے میں عدالت نے کہا کہ درحقیقت نا صرف اس عرصے میں دونوں کے درمیان 85 بلیک بیری پیغامات، ٹیلی فون رابطے اور ای میل پغامات کا تبادلہ کیا گیا بلکہ منصور اعجاز کا دعویٰ ہے کہ 28 اکتوبر اور یکم نومبر کو بھی انھوں نے حسین حقانی کے ساتھ رابطہ کیا۔

’’اس بنا پر انصاف کا تقاضا ہے کہ ان رابطوں کی صداقت جاننے کے لیے اٹارنی جنرل وزارت خارجہ کے توسط سے کینیڈا میں مقیم ریسرچ اِن موشن نامی کمپنی سے ان پیغامات کی تصدیق حاصل کریں کیونکہ تمام تفصیلات اسی کمپنی کے پاس ہوتی ہیں۔‘‘

حکومت پاکستان نے مئی میں امریکی قیادت کو بھیجے گئے میمو کو ’کاغذ کا ٹکڑا‘ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے آئینی درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کی تھی۔

جنرل کیانی اور احمد شجاع پاشا

جنرل کیانی اور احمد شجاع پاشا

آئینی درخواستوں میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کو بھی فریق بنایا گیا ہے، اور ان فوجی قائدین نے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جوابات میں کہا ہے کہ میمو ایک حقیقت ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیئں۔

مبینہ طور پر صدر آصف علی زرداری کی ایما اور اُس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی ہدایت پر لکھے گئے میمو میں پاکستانی فوج کی طرف سے ممکنہ بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے عسکری قیادت کی برطرفی میں امریکہ سے مدد طلب کی گئی تھی۔

میمو اسکینڈل پر وفاق اور ملک کی عسکری قیادت کے متضاد موقف کی وجہ سے سیاسی حکومت اور فوج کے طاقتور ادارے کے درمیان بظاہر کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG