رسائی کے لنکس

پی پی پی رہنمائوں کی سپریم کورٹ، ن لیگ پر تنقید


پی پی پی رہنمائوں کی سپریم کورٹ، ن لیگ پر تنقید

پی پی پی رہنمائوں کی سپریم کورٹ، ن لیگ پر تنقید

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی جماعت کو عدالتوں سے کبھی انصاف نہیں ملا اور حزبِ اختلاف کے رہنما میاں نواز شریف ، صدر آصف علی زردری کو غدار قرار دلوانے کی کوشش کررہے ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ نواز شریف کو قوم کو بتانا ہوگا کہ وہ جمہوری رہنما کو غدار قرار دلوانے کی کوششیں کس کی ایما پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا نواز شریف نے جمہوری صدر کو غدار کہہ کر بنگال جیسا کھیل کھیلنے کی کوشش کی ہے۔

مذکورہ پریس کانفرنس کے انعقاد سے قبل سپریم کورٹ نے امریکی حکام کو لکھے گئے مبینہ میمو سے متعلق تمام شواہد اکٹھے کرنے کی ذمہ داری ایک سابق پولیس افسر کو سونپتے ہوئے صدر، وفاق، چیف آف آرمی اسٹاف، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، اور دیگر فریقین سے معاملہ پر 15 روز میں تحریری جواب طلب کرلیا تھا۔

جمعرات کو حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی رہنمائوں سمیت نو درخواست گزاروں کی جانب سے میمو اسکینڈل پر دائر کردہ آئینی پٹیشنز کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم نو رکنی لارجر بینچ نے کی۔

ابتدائی سماعت کے بعد جاری کیے گئے عدالتی حکم نامے میں تمام درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے بینچ نے قرار دیا کہ بادی النظر میں میمو میں ملکی خود مختاری پر انتہائی قابلِ اعتراض سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

عدالت نے معاملے سے متعلق تمام شواہد اور ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی پر بیرونِ ملک سفر پر بھی پابندی عائد کردی اور کہا کہ اگر وہ ملک سے باہر گئے تو اس کے ذمہ دار سیکریٹری داخلہ و خارجہ ہوں گے۔

عدالتی فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہنگامی بنیادوں پر طلب کی گئی پریس کانفرنس میں میں ڈاکٹر بابر اعوان کے ہمراہ وفاقی وزیرِ مذہبی امور خورشید شاہ، وفاقی وزیرِ اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سابق وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر حکمران جماعت کے رہنما واضح طور پر اشتعال میں نظر آئے اور انہوں نے عدالتِ عظمیٰ کو بالواسطہ اور مسلم لیگ (ن) کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔

ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت نے آج کی کاروائی کے دوران وفاقِ پاکستان کا موقف نہیں سنا اور یک طرفہ فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ پیپلز پارٹی کو کبھی انصاف نہیں ملا جب کہ پنجاب کے حکمرانوں کو ریلیف فراہم کرنے سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب سے تین وزرائے اعظم کی لاشیں گئیں جب کہ چوتھے تابوت میں کیلیں ٹھونکی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جمہوری صدر کو غدار کہا اور انہیں قوم کو بتانا ہوگا کہ جمہوری صدر کوغدار قرار دلوانا کس کا ایجنڈا ہے۔

سابق وفاقی وزیرنے سپریم کورٹ کی جانب سے میمو اسکینڈل پر تشکیل دیے گئے کمیشن کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کمیشن کی تشکیل کا اختیار انتظامیہ کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین آخری عمرانی معاہدہ ہے جسے پسِ پشت ڈالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص کو میمو کے حوالے سے شواہد اکٹھا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ان کے ایک بھائی پنجاب کے چیف سیکریٹری جب کہ دوسرے بھائی سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج ہیں جب کہ ان کے سسر سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ تھے جس نے پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کی جماعت نے اداروں کے پیچھے چھپ کر جمہوریت اور آئین پر حملہ کیا ہے۔

اس سے قبل عدالت کے روبرو مسلم لیگ (نواز) کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے اپنی پٹیشن کے حق میں خود دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ملکی فوج کے خلاف دوسرے ملک سے مدد طلب کرنا قومی سلامتی کے منافی اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک سفیر اپنے تئیں اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا ہے لہذا تمام حقائق جاننے کے لیے ضروری ہے کہ درخواست میں فریق بنائے گئے تمام افراد کو عدالت میں طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عدالتی احکامات کے بعد ہی متنازعہ میمو کے حوالے حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ متنازعہ میمو کا معاملہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کو بھجوادیا گیا ہے جس کے فیصلے سے عدالت کو آگاہ کردیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG