رسائی کے لنکس

متنازع بیان پر وفاقی وزیر سے وزیراعظم نے وضاحت طلب کر لی


سینیٹر مشاہد اللہ خان

سینیٹر مشاہد اللہ خان

مشاہد اللہ بھی مختلف ٹی وی چینلز پر یہ کہتے نظر آئے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ایم کیو ایم کے قانون سازوں کے استعفوں کا معاملہ ابھی کسی حتمی رخ پر نہیں پہنچا تھا کہ ایک حکومتی وزیر کا بیان منظر عام پر آنے سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر طلاطم دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے ایک متنازع بیان دینے پر وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان سے وضاحت طلب کی ہے جب کہ ہفتہ کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وزیر موصوف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مشاہد اللہ خان اس وقت اپنی سرکاری مصروفیت کے سلسلے میں مالدیپ کے دورے پر ہیں اور ان سے رابطہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

جمعہ کو مشاہداللہ خان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ گزشتہ سال اگست میں پارلیمان کے سامنے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے وقت انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سابق سربراہ لفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کی ایک آڈیو ٹیپ ریکارڈ کی گئی تھی۔

اُن کے بقول وہ آڈیو ٹیپ سویلین انٹیلی جنس ایجنسی ’آئی بی‘ نے ریکارڈ کی تھی جو وزیراعظم نواز شریف نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو بھی سنوائی۔

تاہم مشاہد اللہ نے کہا کہ وہ اُس ملاقات میں نا تو موجود تھے اور نا ہی اُنھوں نے خود وہ آڈیو سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اُس آڈیو ریکارڈ کے حوالے سے جو باتیں گردش کر رہی تھیں اُن کے مطابق ’آئی ایس آئی‘ کے اُس وقت کے سربراہ صورت حال کا فائدہ اٹھا کر مبینہ طور پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔

وفاقی وزیر کے اس بیان کے فوراً بعد ہی وزیراعظم نواز شریف کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم کو ایسی کسی ’ٹیپ‘ کا علم نہیں اور نا ہی اُنھیں ایسی کوئی چیز سنوائی گئی۔

جمعہ کی شب ہی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئیٹر‘ پر اپنے پیغام میں میڈیا پر ریکارڈنگ سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ ایسی افواہیں غیر ذمہ دارانہ فعل ہیں۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے بھی مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں سینیٹر مشاہد اللہ کے بیان کو مسترد کیا تھا۔

بعد ازاں مشاہد اللہ بھی مختلف ٹی وی چینلز پر یہ کہتے نظر آئے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی مشاہداللہ سے منسوب بیان پر شدید تنقید کرتےہوئے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے اقدام کرے۔

XS
SM
MD
LG