رسائی کے لنکس

متحدہ نے تعلیم یافتہ مڈل کلاس کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا

  • عادل زیب

خصوصی انٹرویو

خصوصی انٹرویو

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد، الطاف حسین کا کہنا ہے کہ اُن کے سیاسی مخالفین بھی شاید اِس حقیقت سےانکار نہیں کرسکتے کہ پاکستان کی 65سالہ تاریخ میں صرف ایم کیوایم ہی وہ واحد جماعت ہے، جِس نے تعلیم یافتہ مڈل کلاس کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔

’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کرنا اور ملکی سیاست میں چند خاندانوں کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے سے انکار ہی، اُن کے بقول، ’ایم کیو ایم کی ایسی غلطیاں ہیں جِن کی سزا اُنھیں سنگین الزامات اور پارٹی کارکنوں اور راہنماؤں کے خلاف جبر کی صورت میں بھگتنا پڑی ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب بھی ایم کیو ایم نے کراچی اور حیدرآباد سے نکل کر ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کو اپنے منشور سے آگاہ کرنے کی کوشش کی، ایک منظم طریقے سے اُن کی جماعت کا’ میڈیا ٹرائل‘ شروع کروا دیا جاتا ہے، جب کہ ماضی میں اُن کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو ریاستی آپریشن میں ہلاک کیا گیا۔

ایم کیو ایم کے قائد کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ برسرِ اقتدار رہنے کے باوجود پارٹی نے عوام کی خدمت نہیں کی۔ اس سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ اگر یہ بات درست ہوتی تو ایم کیو ایم کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ نہ ہوتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ قائد کی حیثیت سے وہ خود اور پارٹی کے راہنما نظم و ضبط کے تحت اپنی کارکردگی پر رابطہ کمیٹی کو جوابدہ ہیں۔

الطاف حسین کے الفاظ میں تمام ادوار میں ایم کیو ایم کو اصل اقتدار صرف اُس وقت ملا جب مصطفیٰ کمال کراچی کے ناظم منتخب ہوئے، جِن کی کارکردگی کو، اُن کے بقول، خود مغربی ممالک نے بھی سراہا ہے۔

لسانیت کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں متحدہ کےقائد کا کہنا تھا کہ’ کراچی کا امن خراب کرنے کی سازش ہمیشہ کہیں اور تیارہوتی ہے، اور تمام قومیتوں کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ مضموم مقاصد کی خاطر شہر بھر میں بیگناہ اردو بولنے والوں یا پٹھانوں کا قتلِ عام شروع کروا دیا جاتا ہے‘۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال، خصوصاً عمران خان کی مقبولیت پر تبصرہ کرتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ایک جمہوری جماعت ہونے کے ناطے جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔اُن کے الفاظ میں، اگر عمران خان الیکشن میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو حکومت بنانا اُن کا آئینی حق ہے۔ لیکن، اُنھوں نے یہ تاثر رد کیا کہ تحریکِ انصاف سندھ، خصوصاً کراچی میں، ایم کیو ایم کو سیاسی نقصان پہنچا سکے گی۔

XS
SM
MD
LG