رسائی کے لنکس

نیٹو افواج کی رسد روکنا دانشمندانہ نہیں:سیاسی حلقے


حنا ربانی کھر (فائل فوٹو)

حنا ربانی کھر (فائل فوٹو)

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کہتی ہیں کہ ایک ایسے وقت جب امریکہ اور نیٹو کا افغانستان سے انخلا ہونا ہے تو ان کے سامان اور فوجیوں کی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے راستے رسد کی ترسیل کو بند کرنے کے لیے صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کے کارکن خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان گزشتہ پانچ روز سے افغانستان کو جانے والی شاہراہوں پر دھرنے دیتے آ رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کے علاوہ بعض سیاسی حلقے بھی تحریک انصاف کے اس اقدام کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ملک کی پہلی خاتون وزیرخارجہ حنا ربانی کھر کہتی ہیں کہ نیٹو افواج میں دوست ممالک کی سپاہ بھی موجود ہے اور یہ ترسیل بند کرنا کسی بھی طرح فی الوقت ملک کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت جب امریکہ اور نیٹو کا افغانستان سے انخلا ہونا ہے تو ان کے سامان اور فوجیوں کی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔

’’تو اس کو روکنا ہمارے انٹرسٹ میں نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے مفاد میں تو یہ ہے کہ یہاں سے تمام بیرونی طاقتیں اس خطے سے نکلیں اس میں بہتری ہوگی تاکہ اس خطے میں زیادہ امن آئے۔‘‘

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری جعفر اقبال بھی نیٹو رسد کی ترسیل میں ایسے احتجاجی تعطل کے حق میں نہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ احتجاج تحریک انصاف کا حق ہے لیکن یہ وفاق کا معاملہ ہے لہذا وفاق کے ساتھ مل کر اتفاق رائے سے حل نکالا جانا چاہیئے نہ کہ اس پر سیاست کی جائے۔

’’ تمام جماعتوں کو ایک پیج پر رہ کر جیسا کہ نو ستمبر کو تھیں، اس کا متبادل حل سوچنا چاہیے بہتر یہ ہوگا کہ امن کے لیے امن کا راستہ ہی اپنانا چاہیے۔‘‘

مرکزی حکومت یہ کہتی آئی ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی روکنے جیسے احتجاج سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور یہ معاملہ امریکہ اور اقوام متحدہ سمیت تمام متعلقہ فورمز پر اٹھایا جارہا ہے۔

پاک افغان سرحد پر واقع طورخم

پاک افغان سرحد پر واقع طورخم


افغانستان میں تعینات امریکہ اور نیٹو افواج کو زمینی راستے سے رسد پاکستان کے خیبر پختونخواہ میں طورخم اور بلوچستان میں چمن کی سرحدی گزرگاہ سے فراہم کی جاتی ہے۔

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت تاحال اس احتجاج میں عملی طور پر شریک نہیں ہوئی اور صرف اس کے کارکنان ہی افغانستان سامان لے جانے والی گاڑیوں کو روکنے اور ان کی جانچ پڑتال میں سرگرم ہیں۔

صوبائی حکومت نے رواں ہفتے وفاق کو سرکاری طور پر نیٹو سپلائی بند کرنے کے لیے خط تحریر کیا تھا لیکن اس پر فی الوقت کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
XS
SM
MD
LG