رسائی کے لنکس

’’غلط‘‘ اعداد و شمار کی نشاندہی کے باجود حزب اختلاف کے قانون سازوں کے بقول چوہدری نثار نے نہ تو انہیں درست کرنے کی یقین دہانی کروائی بلکہ اس پر ان سے تلخ رویے اپنایا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے قانون سازوں نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے مبینہ ’’غیر پارلیمانی رویے‘‘ پر بدھ کو احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ کا غیر رسمی اجلاس پارلیمان کی عمارت کے باہر منعقد کیا۔

اپوزیشن کی طرف سے احتجاج گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ کے سینیٹ میں پیش کردہ اعداد شمار کے بعد شروع ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں سال جون سے اب تک دہشت گردی کے واقعات میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں 120 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2008ء سے امریکی ڈرون حملوں میں صرف 67 عام شہری مارے گئے۔

’’غلط‘‘ اعداد و شمار کی نشاندہی کے باجود حزب اختلاف کے قانون سازوں کے بقول چودھری نثار نے نہ تو انہیں درست کرنے کی یقین دہانی کروائی بلکہ اس پر تلخ رویہ اپنایا۔ بعد میں اپوزیشن نے وفاقی وزیر کے خلاف پارلیمان کے ایوان بالا میں تحریک استحقاق بھی پیش کی۔

حکومت کے عہیدیدار ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ چودھری نثار نے سینیٹ کے اجلاس ہی میں اعدادوشمار پر نظر ثانی کرنے کا کہہ دیا تھا۔

حکومت کے جواب سے مطمئن نا ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سربراہی میں حزب اختلاف کے سینیٹروں نے اسلام آباد میں پارلیمان کی عمارت سے باہر سبزہ زار پر سینیٹ کا ’’متبادل‘‘ اجلاس منعقد کیا۔

حزب مخالف کے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ’’وزیر نے اپنی انا کی وجہ سے پارلیمان کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سینیٹ کے اندر پارلیمانی روایات کو پامال کیا گیا لہذا اپوزیشن کے پاس اور کوئی راستہ باقی نا بچا کہ ملک کو درپیش سنگین معاملات پر اپنی آراء اور حکومت کی معاونت کے لیے یہ متبادل سیشن کیا جائے۔‘‘

بعد میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے قانون ساز اور وزیر خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وفاقی وزیر کی طرف سے غلط اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

سینیٹر اعتزاز احسن

سینیٹر اعتزاز احسن


’’اگر ہم کہیں کہ (وہ) معافی مانگیں تو پھر حکومت کے قانون ساز کہہ سکتے کہ آپ زیادتی کررہے ہیں گو کہ یہ ہمارا حق ہے اور انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ وہ جواب واپس لیکر کسی دوسرے روز درست اعداد و شمار پیش کردیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تفصیلات سے امریکی کارروائیوں کی ’’جسٹیفیکیشن‘‘ ہوتی ہے۔

تاہم بدھ کو ہی قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے جواب واپس لینے کی پارلیمانی روایات کہیں نہیں پائی جاتی اور ان کے بقول پارلیمان کے ایوانوں سے تماشہ نا بنایا جائے۔

’’انا کا مسئلہ ادھر سے بنایا جارہا ہے۔ میں سینیٹ کی کارروائی کا ریکارڈ پیش کرتا ہوں۔ حزب اختلاف یا کوئی اور کھڑا ہوکر کہے یہ لفظ تم نے غلط کہے یا یہ تم نے انا کا مسئلہ بنایا ہے۔ یا تم نے پارلیمانی روایت کی مخالفت کی ہے میں فوری طور پر جو کچھ وہ کہیں گے اس پر کاربند ہو جاؤں گا۔‘‘

حزب اختلاف کے احتجاج کے باعث پارلیمان کے ایوان بالا میں گزشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے سے حکومت کے بقول شدت پسندوں سے مذاکرات سبوتاژ ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث شروع نہیں ہو سکی ہے۔

جمعے کو سرحدی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں القاعدہ سے منسلک کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے تھے۔

حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کا موقف ہے کہ اس حملے پر حکومت احتجاجاً افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے رسد معطل کردے۔

حالیہ ڈرون حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت امریکہ کے ساتھ تعلقات اور تعاون کا ازسرنو جائزہ لینے کا کہہ چکی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کی سینیٹر کلثوم پروین کہتی ہیں ’’ہماری تو کئی ملالئے جل کر راکھ ہو گئی تھیں اس پر تو کسی نے اظہار افسوس نہیں کیا تو اس کے لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے جو ایجنڈا تھا اس پر کام کریں۔ جہاں بھی کام کرنا پڑے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا ہم اندر بیٹھیں یا باہر۔‘‘
XS
SM
MD
LG