رسائی کے لنکس

عمران خان سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں بات کریں: خورشید شاہ


قائد حزب اختلاف خورشید شاہ

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر قائل ہو چکی ہے کہ پارلیمنٹ کے فورم کو اہمیت نہیں دی جارہی۔

مرکز میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی جس سے ملک میں جمہوری نظام کے پٹڑی سے اترنے کا خدشہ ہو۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو نظام سے متعلق کسی بھی طرح کے تحفظات ہیں تو اس پر بات کرنے کا درست مقام پارلیمنٹ ہے ناکہ ملک کی سڑکیں۔

یہ بات انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے گزشتہ سال کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی طول پکڑتی تحقیقات اور مسلم لیگ ن کے طرز حکمرانی کے خلاف آئندہ ماہ ایک لانگ مارچ کرنے کے اعلان کے تناظر میں کہی۔

تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اس کا احتجاج جمہوریت نہیں بلکہ حکومت کے خلاف ہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کی جماعت جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کرنا چاہتی تو اسے چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے تحفظات پر بحث کرے۔

"جب آپ ڈی ریل نہیں کرنا چاہتے تو بھائی آؤ پارلیمنٹ موجود ہے۔ اگر پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے ہم اپنے فیصلے سڑکوں پر کرنے لگے تو پھر قدرتی طور پر یہ نظام نہیں چل سکتا۔ اس لیے ہمیں بیٹھ کر ایشوز کو حل کرنا چاہیے۔ـ

تاہم تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں قائد حزب اختلاف کے مشورے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

’’پارلیمنٹ میں تو ہم موجود ہیں، پارلیمنٹ میں ان معاملات کو ہم پچھلے ایک سال سے اٹھا رہے ہیں اور حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم قائل ہو چکے ہیں یہ پارلیمنٹ کے فورم کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔‘‘

حکومتی ارکان بھی یہ کہتے آئے ہیں کہ ریلی اور جلسے ہر کسی کا جمہوری حق ہے لیکن ملک کو درپیش موجودہ مسائل خصوصاً سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں ایسے اجتماعات نامناسب ہیں اور یہ ان کے بقول ملک کی معیشت کو پیروں پر کھڑا کرنے کی حکومتی کوششوں کے لیے بھی مضر ثابت ہوسکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان کی جماعت کی حکومت کے خلاف بھی سازشیں ہوتی رہیں لیکن ان کا نقصان ملک کو آمریت کی شکل میں بھگتنا پڑا۔

پاکستانی فوج نے حکومت کی ہدایت پر گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کےخلاف بھر پور کارروائی شروع کی تھی اور غیر جانبدار حلقے کا موقف ہے کہ اس صورتحال میں سیاسی قائدین کو باہمی اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG