رسائی کے لنکس

آئین و جمہوریت کے استحکام کے حق میں متفقہ قرارداد منظور


قومی اسمبلی کی قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کا دفاع، جمہوریت اور ترقی سے وابستہ ہے اور پارلیمنٹ آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے لیے کام کر رہی ہے۔

پاکستان کے ایوان زیریں 'قومی اسمبلی' میں منگل کو آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کا دفاع، جمہوریت اور ترقی سے وابستہ ہے اور پارلیمنٹ آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے لیے کام کر رہی ہے۔

یہ قرارداد ایک ایسے وقت منظور کی گئی جب قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دوسری بڑی اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات، ان کے بقول نہ ہونے پر حکومت کے خلاف 14 اگست کو اسلام آباد میں احتجاجی مارچ اور دھرنےکا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری طرف لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری نے بھی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے اپنے لوگوں کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا کہہ رکھا ہے۔

حکومت کے علاوہ بعض دیگر سیاسی جماعتیں یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ 14 اگست کو احتجاج اور حکومت کو گرانے کے اعلانات کرنے والے قائدین سے مشاورت کر کے کوئی درمیانی راستہ نکالیں تاکہ کسی بھی طرح کی محاذ آرائی اور تصادم کو روکا جا سکے۔

لیکن عمران خان یہ واضح انداز میں کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) عام انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کی وجہ سے کامیاب ہوئی اور ان کی جماعت اس کے خلاف ہر صورت اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دے گی۔

طاہر القادری موجودہ نظام حکومت اور الیکشن کے طریقہ کار کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

منگل کو ایوان میں تقریر کرتے ہوئے حکومت کے اتحادی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ہر اس شخص یا جماعت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی جو آئین کے خلاف اقدام کرے۔

"جو بھی آئین کو چھیڑے گا، پارلیمنٹ کو جمہوری نظام کو چھیڑے گا میں اس کے خلاف لڑوں گا۔۔۔۔۔ جو بھی آئین کو چھیڑے گا اس کےخلاف بغاوت جائز ہے۔ بڑے شوق سے آئیں لیکن اگر یہ ریت پڑ جائے گی کہ یہاں ایک لاکھ لوگوں کو جمع کرو اور لوگوں (حکومت) کو چلتا کرو۔۔۔۔ایسا نہیں ہوگا اور ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔"

پاکستان تحریک انصاف کا موقف ہے کہ وہ مبینہ دھاندلی سے اقتدار میں آنے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور ایسا نظام رائج کرنا چاہتی ہے جس کے تحت عوام کا مینڈیٹ چرایا نہ جا سکے۔ اس کے بقول دھاندلیوں کے خلاف انصاف نہ ملنے کی وجہ سے اس نے احتجاج کا راستہ اپنایا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جماعت کو ان معاملات کو سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ قانونی اداروں کے سامنے اٹھانا چاہیئے۔

سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔

"اس (عمران خان) کا نظام ہمیں قابل قبول نہیں ہے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ نہیں نہیں نہیں کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا، یہ باتیں پاکستان کو توڑنے کی طرف جائیں گی میرے منہ میں خاک، اور پاکستانی قوم کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے ان کے عزائم کے خلاف اور ان کو روکنا چاہیئے اور روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان کا ساتھ نہ دیں۔"

احتجاج اور ریلیوں کے تناظر میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے مختلف شہروں جب کہ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کے ساتھ ساتھ اہم سڑکوں اور گزرگاہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا جارہا ہے جو کہ بہرحال باقی عوام کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث ہے۔

XS
SM
MD
LG