رسائی کے لنکس

عدلیہ، فوج اور سیاسی طاقتوں نے پیپلزپارٹی کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ بلاخوف و خطر عام انتخابات کی طرف جا سکتی ہے اور کوئی بھی اس کی راہ میں رکاٹ نہیں بن سکتا

تحریک منہاج القرآن کے لانگ مارچ کےسبب ملکی نظام میں کیا اصلاحات ہوئیں یہ تو آنےوالا وقت ہی بتائے گا، لیکن تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے مطابق ملکی سیاست اور سیاسی جماعتوں پر اس کے انتہائی گہرے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

سیاست پر اثرات
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میں ہونے والے لانگ مارچ نے رواں سال کے ابتدائی دو عشروں میں ہی افواہ ساز فیکٹریاں بند کر دیں اورآئندہ انتخابات کی تاریخ پر پڑی گرد بھی صاف ہو گئی۔سیاسی بے یقینی میں بھی واضح ٹھہراوٴ محسوس کیا جا رہا ہے۔

خدشات اور سازشیں تحلیل
لانگ مارچ سے قبل بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید یہ انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوئی کوشش ہے۔سب سے زیادہ کہے جانے والے جملے یہ تھے کہ مارچ کے پیچھے نادیدہ قوتیں ، اسٹیبلشمنٹ یا غیر جمہوری عناصر کار فرما ہیں، لیکن اب یہ سارے خدشات اور سازشیں ہوا میں تحلیل ہو گئیں۔

زبانی حملے بند، پی پی، ن لیگ قربت بڑھی
سیاستدانوں کےایک دوسرے پر زبانی حملے بند ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ ن کے درمیان فاصلے ،قربتوں میں بدل رہے ہیں اور یہ خبریں گردش میں ہیں کہ پیر کو صدر آصف علی زرداری لاہور جا رہے ہیں جہاں وہ ن لیگ کے سربراہ نواز شریف کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کریں گے جس میں نواز شریف کےبھائی کی تعزیت کے علاوہ موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بات ہو گئی۔

نگراں سیٹ اپ کے لئے رابطوں کی ابتدا
مبصرین اس ملاقات کو آئندہ انتخابات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور نگراں سیٹ اپ کیلئے قیادت کی سطح پر رابطوں کی اتبدا بھی قرار دے رہے ہیں۔ یہ لانگ مارچ کا ہی نتیجہ ہے کہ جمہوری قوتوں میں ایک احساس تحفظ پیدا ہو رہا ہے کیونکہ عسکری قیادت بظاہر اس تمام تر صورتحال سے کوسوں دور نظر آ ئی۔

مسلم لیگ ن کی تنہائی ختم ہوگئی
لانگ مارچ نے جہاں ملکی سیاست پر اثرات مرتب کیے وہیں سیاسی جماعتوں کیلئے مستقبل کی راہیں بھی واضح کر دیں۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ صورتحال حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کیلئے انتہائی ساز گار ثابت ہو ئی۔مسلم لیگ ن کو شروع ہی سے سیاسی تنہائی کا طعنہ دیا جا رہا تھا، لیکن لانگ مارچ کے دوران ان کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کا کھڑا ہونا اس بات کا غماز ہے کہ وہ اب اکیلی نہیں۔

گرینڈ ایلائنس پر اتفاق
مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا کی مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف سے رائیونڈ میں ملاقات اور انتخابات میں اپوزیشن کے گرینڈ الائنس پر اتفاق بھی بہت سے سیاسی ہلچل کا پیش خیمہ ثابت ہو گا خاص طور پر سندھ کی سیاست میں مقابلے کی فضا کا ایک تاثر ابھر کا سامنے آ رہا ہے۔ نواز شریف سندھ میں بلدیاتی نظام پر پہلے ہی قوم پرست جماعتوں کی کافی ہمدردیاں بھی سمیٹ چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سیاسی جماعتوں سے دور ی
دوسری طرف پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حریف سمجھے جانے والی تحریک انصاف کیلئے یہ تجربہ کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ تحریک انصاف نے نہ تو اپوزیشن کا ساتھ دیا ، نہ طاہر القادری کا اور نہ ہی حکومت کا۔ الگ پوزیشن لینے پر اب وہ سیاسی جماعتوں سے دور کھڑی نظر آ رہی ہے۔ تحریک کے درمیان اگرچہ بیانات کی حد تک عمران خان طاہر القادری کی حمایت کرتے رہے لیکن ان کا یہ مطالبہ کہ صدر زرداری کی موجودگی میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، آنے والے وقتوں میں دردسربن سکتا ہے، کیونکہ آصف علی زرداری کے بطور صدر کسی اور جماعت کو ان پر اس قسم کا اعتراض نہیں۔

ایم کیوایم ’قومی پرواز ‘ کے ممکنہ نقصان
حکومتی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے پہلے لانگ مارچ میں ساتھ شرکت اور بعد میں علیحدگی کے اعلانات نے کسی حد تک حریفوں کو اپنے اوپر زبانی طور پر حملہ آور ہونے کی اجازت دی ہے۔ایم کیو ایم سے متعلق عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ وہ کراچی اور حیدر آباد میں اپنی پوزیشن برقرار رکھے گی۔ تاہم، بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے اس کی قومی پرواز کو نقصان ہو سکتا ہے۔

پی پی پی۔۔کوئی رکاوٴٹ نہیں
حکمران جماعت پیپلزپارٹی سے متعلق یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر چہ لانگ مارچ کے معاملے پر اسے زیادہ فوائد یا نقصانات تو نہیں ہوئے البتہ اس کیلئے یہ تاثر زائل ہو چکا ہے کہ وہ سیاسی شہادت حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں بہترین حکمت عملی کے تحت لانگ مارچ کے پرامن خاتمے کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ عدلیہ ، فوج اور سیاسی طاقتوں نے پیپلزپارٹی کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ بلاخوف و خطر عام انتخابات کی طرف جا سکتی ہے اور کوئی بھی اس کی راہ میں رکاٹ نہیں بن سکتا۔
XS
SM
MD
LG