رسائی کے لنکس

قیادت اور کارکنوں میں اختلافات کے بیچ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس


قیادت اور کارکنوں میں اختلافات کے بیچ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس

قیادت اور کارکنوں میں اختلافات کے بیچ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس

صفدر عباسی نے بتایا کہ کئی سالوں تک مختلف پارٹی عہدوں پر فائز رہنے والے متعدد پرانے کارکنوں کو اِن عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جس سے اُن کے بقول کارکن مایوسی کا شکار ہیں اور یہ امر اُن کے حوصلے پست کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ اکابرین اور کارکنوں کے درمیان خلیج پیدا ہوتی جارہی ہے جسے اگر کم نہ کیا گیا تو جماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

30نومبر 1967ء کو وجود میں آنے والی پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر جہاں اس برسر اقتدار جماعت کے رہنماؤں نے مختلف تقاریب میں کارکنوں کو اپنا اثاثہ اور طاقت کا سرچشمہ قرار دیا وہیں برسوں سے پیپلز پارٹی سے وابستہ سینئر کارکنوں کوشکایت ہے کہ جماعت کی سابق سربراہ بینظیر بھٹو کی ایک دہشت گرد حملے میں ہلاکت کے بعد اُنھیں نہ صرف مشاورتی عمل میں شریک نہیں کیا جارہا ہے بلکہ قیادت سے اختلافات کے باعث بعض ارکان کی بنیادی رکنیت تک منسوخ کر دی گئی ہے۔

یوم تاسیس کے موقع پر پشاور میں ایک جلسہ عام سے خطاب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب تک کارکن مضبوط نہیں ہوں گے جماعت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پارٹی کو منظم کرنے کے لیے اُنھوں نے صدر آصف علی زرداری سے بات کی ہے۔

لیکن پیپلز پارٹی کے بعض پرانے کارکن جن میں مقتول رہنماء بے نظیر بھٹو کی سیاسی مشیر اور قریبی ساتھی ناہید خان بھی شامل ہیں حکومت سے نالاں ہیں اور اُن کا الزام ہے کہ موجودہ قیادت پارٹی کارکنوں کو وہ اہمیت نہیں دے رہی جس کے وہ حق دار ہیں ۔

قیادت اور کارکنوں میں اختلافات کے بیچ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس

قیادت اور کارکنوں میں اختلافات کے بیچ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس

ناہید خان کے ایسے ہی بیانات کے باعث رواں ہفتے اُن کی بنیادی رکنیت معطل کر دی گئی ۔ اُن کے شوہر صفد ر عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حال ہی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے چار اراکین کی رکنیت معطل کی گئی جن میں افضل سندھو، اسرار شاہ ، شیری رحمن اور خود صفد رعباسی بھی شامل ہیں۔

صفدر عباسی نے بتایا کہ کئی سالوں تک مختلف پارٹی عہدوں پر فائز رہنے والے متعدد پرانے کارکنوں کو اِن عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جس سے اُن کے بقول کارکن مایوسی کا شکار ہیں اور یہ امر اُن کے حوصلے پست کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ اکابرین اور کارکنوں کے درمیان خلیج پیدا ہوتی جارہی ہے جسے اگر کم نہ کیا گیا تو جماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

پیپلز پارٹی کے بعض پرانے کارکن اپنی جماعت کی قیادت سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے اُن کے قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

حکمران جماعت کے وزراء اور ایسے عہدیدار جو کسی نہ کسی طرح اقتدا ر کا حصہ ہیں ،کا کہناہے کہ حکومت اپنی قائد کے قاتلوں کو سزا دلوانے میں کوئی کثر اُٹھا نہیں رکھے گی۔

وزیر اعظم گیلانی نے بھی منگل کو ایک مرتبہ پھر وزیر داخلہ رحمن ملک سے کہا کہ وہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

ملک کی اس سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی اراکین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بہت سی کوتاہیاں ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کی مقبو ل شخصیات کے باعث چھپ جاتی تھیں لیکن اُن کے بقول اب ایسا نہیں ہے۔

صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی

صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی

دوسری جانب حکمران جماعت کے شریک چیئرمین صدر زرداری، وزیراعظم گیلانی اور دیگر سینئر عہدیداروں کا کہنا کہ ہے بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ناصر ف اس جماعت نے 2008ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی بلکہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اب تک مرکز اور صوبوں میں مخلوط حکومت ”کامیابی“ سے چلا رہی ہے۔

پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کی جانے والی تقریبات سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور وزراء نے دعویٰ کیا ہے کہ جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوا ہے ۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جس قدر سیاسی بلاغت رکھتے تھے اُن کے مقابلے میں اس جماعت کی موجودہ قیادت اُتنا سیاسی تجربہ نہیں رکھتی جو کہ پیپلزپارٹی کو درپیش موجودہ مشکلات کا ایک اہم سبب ہے۔

XS
SM
MD
LG