رسائی کے لنکس

90 دن میں پاکستان سے بدعنوانی ختم کرنے کا وعدہ


90 دن میں پاکستان سے بدعنوانی ختم کرنے کا وعدہ

90 دن میں پاکستان سے بدعنوانی ختم کرنے کا وعدہ

عمران خان نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ہر کام اور تقرریاں میرٹ پر کریں گے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ’’جتنی مرضی عمران کی چمچہ گیری کر لو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ... ہم ملک سے 90 دن کے اندر بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔‘‘

حزب مخالف کی تیزی سے مقبول ہونے والی سیاسی جماعت ’پاکستان تحریک انصاف‘ کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو کراچی میں ایک بہت بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ ملک میں عدل و انصاف کے نظام کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔

’’کوئی راکٹ سائنس نہیں چاہیے پاکستان میں آپ کو،صرف ہم نےاس ملک کا نظام ٹھیک کرنا ہے۔ ایک ایماندار ٹیم لے کرآنی ہے جو پہلےاپنا احتساب کرے۔ اس پارٹی میں کسی کو ٹکٹ نہیں ملے گا جب تک وہ اپنے اثاثے ظاہر نہ کرے۔‘‘

عمران خان نے کہا کہ اثاثے ظاہر کرنے کے بعد پارٹی کے کسی بھی رکن کے لیےبدعنوانی کرنا بڑا مشکل ہوگا کیونکہ جیسے ہی اس کی دولت بڑھے گی اُسے بتانا پڑے گا کہ یہ کیسے بڑھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ہر کام اور تقرریاں میرٹ پر کریں گے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ’’جتنی مرضی عمران کی چمچہ گیری کر لو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ... ہم ملک سے 90 دن کے اندر بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے۔‘‘

اپنی تقریر کے آغاز میں تحریک انصاف کے سربراہ نےانکشاف کیا کہ حکمران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی نے بھی اُن کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں سیاسی، تشدد اور نسلی فسادات کا شکار پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس طرح کے سیاسی جلسے اور جلوسوں کا انعقاد ایک بڑا چیلنج سمجھا جارہا تھا لیکن عمران خان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے کو عوام کا سونامی سمجھنا اُن کی غلطی تھی کیونکہ اتوار کو کراچی کا جلسہ حقیقی معنوں میں ایک بڑا سونامی ثابت ہوا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اُن کی جماعت کے سینئر رہنماؤں پر مشتمل ٹیم ملک کے لیے تعلیمی، اقتصادی، مزدوروں، پولیس، انتظامی اور دیگر پالیسیوں پر مبنی دستاویزات پیش کریں گے۔

’’ایک دن آئے گا جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی اور عمران خان کی گاڑی بھی روک لی جائے گی کہ وہ تیز گاڑی چلا رہا تھا۔‘‘

تحریک انصاف کے سربراہ کی تقریر کے دوران ’’وزیر اعظم پاکستان، عمران خان‘‘ کے نعرے لگتے رہے جبکہ وقفے وقفے سے قومی اور خصوصی طور پر تیار کیے گئے نغمے بھی بجائے جاتے رہے۔

قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں منعقد کیے جانے والے جلسے میں لوگوں کی غیر معمولی بڑی تعداد نے شرکت کی اور عینی شاہدین نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔

مجمے کی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے لیکن تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جلسے کے آغاز سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ جلسہ گاہ میں اڑھائی لاکھ افراد کی گنجائش ہے۔ پاکستان کے تمام نجی ٹی وی چینلز اس جلسے کی لمحہ بہ لمحہ کارروائی براہ راست نشر کرتے رہے۔

عمران خان کی جماعت کا روایتی گڑھ پنجاب مانا جاتا ہے لیکن کراچی میں جلسے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے قومی سطح پر ایک بڑی قوت بن کر ابھرنے کے تاثر کو تقویت ملی ہے اور آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سمیت تمام بڑی جماعتوں کے لیے وہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

عمران خان نے اس سیاسی جماعت کی بنیاد 15 سال قبل رکھی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں اُن کے عوامی جلسوں میں لوگوں نے غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں حصہ لیا ہے جس کے بعد ملک کی سیاست کے بڑے کردار سمجھے جانے والے کئی سیاست دانوں نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

ان میں مسلم لیگ (ن) کے جاوید ہاشمی، پیپلز پارٹی کے مخدوم شاہ محمود قریشی، اور موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے کئی نامی گرامی اراکین شامل ہیں۔

اکتوبر میں مینار پاکستان کے مقام پر عمران خان کی سیاسی جماعت کے غیر معمولی طور پر بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کے بعد اس وقت ملک کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں تحریک انصاف کے چرچے ہیں۔

اس سیاسی جماعت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ملک کی دو بڑی جماعتوں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے بقول ناقدین کے پاکستانی عوام کی بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG