رسائی کے لنکس

کارکن کی ہلاکت پر تحریک انصاف کا یوم سوگ اور مظاہرے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

منگل کو کارکن کی نماز جنازہ فیصل آباد میں ادا کر دی گئی لیکن تحریک انصاف نے مختلف شہروں میں اپنے کارکن کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان بھی کیا۔

حکومت مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ایک روز قبل فیصل آباد میں مظاہرے کے دوران اپنے ایک کارکن کی ہلاکت کے خلاف منگل کو یوم سوگ کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ اس کے حامی ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔

22 سالہ حق نواز پیر کو اس وقت ہلاک ہوا جب فیصل آباد میں پی ٹی آئی اور حکمران مسلم لیگ (ن) کی حامیوں میں مظاہرے کے دوران جھڑپیں شروع ہوئیں۔

منگل کو اس کارکن کی نماز جنازہ فیصل آباد میں ادا کر دی گئی لیکن تحریک انصاف نے مختلف شہروں میں اپنے کارکن کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان بھی کیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اگست کے وسط سے تحریک انصاف کے کارکن حکومت مخالف دھرنا دیے ہوئے ہیں جب کہ گزشتہ ماہ جماعت کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے احتجاج کے سلسلے میں مرحلہ وار مختلف شہروں کو "بند" کریں گے۔

اسی سلسلے میں پیر کو فیصل آباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی تھی جہاں ان کی مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

تحریک انصاف نے اپنے کارکن کی ہلاکت کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے جب کہ حکومتی عہدیداروں نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

عمران خان کا الزام ہے کہ مسلم لیگ (ن) مئی 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کر کے اقتدار تک پہنچی ہے اور جب تک ان دھاندلیوں کی شفاف تحقیقات نہیں ہو جاتیں وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

حکومت اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف دھاندلیوں کے الزام کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کو خط لکھ چکے ہیں کہ وہ ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے۔

اولاً دونوں حریفوں میں مذاکراتی عمل بھی شروع ہوا جو درجن بھر نشستوں کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا اور تقریباً چار ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی فی الوقت کسی طور کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

پی ٹی آئی کی طرف سے یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ حکومت مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے شروع کرے جہاں معطل ہوا تھا یعنی اس کے بقول جن نکات پر فریقین نے اتفاق کیا تھا بات چیت وہیں سے شروع کی جائے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں لیکن تحریک انصاف اس میں سنجیدگی کا مظاہرہ اور اپنے احتجاج کو ختم کرے۔

XS
SM
MD
LG