رسائی کے لنکس

تصادم کے بعد کشیدگی، اسلام آباد میں احتجاج پر نظریں


گوجرانوالہ کے قریب تحریک انصاف کے ’آزادی مارچ‘ کے شرکا اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں چند افراد زخمی بھی ہوئے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے جمعرات کو لاہور سے شروع ہونے والے مارچ جمعہ کو بھی اپنی منزل اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے۔

گوجرانوالہ کے قریب تحریک انصاف کے ’آزادی مارچ‘ کے شرکا اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں چند افراد زخمی بھی ہوئے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا جس ٹرک میں عمران خان سوار تھے اس پر فائرنگ بھی کی گئی لیکن پولیس کے مطابق کسی طرح کی فائرنگ نہیں ہوئی۔

تاہم صورت حال پر جلد ہی قابو پا لیا گیا۔ عمران خان نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ اُن کے لانگ مارچ میں ’دس لاکھ‘ لوگ شامل ہوں گے۔

’’دس لاکھ پاکستانی اسلام آباد میں ہوں گے، جو ابھی اسلام آباد میں ہیں وہیں رہیں۔ جو ابھی تک نہیں پہنچے وہ بھی وہاں پہنچیں۔‘‘

عمران خان اور اُن کی جماعت کے دیگر رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ گوجرانوالہ میں سڑک کنارے اُن کی جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی کے دفتر پر نواز شریف کی لگی تصاویر پر تحریک انصاف کے احتجاج میں شامل افراد نے پتھر مارے جس پر جوابی پتھراؤ کیا گیا۔

’’وزیراعلٰی پنجاب نے فوری طور پر پنجاب پولیس کے سربراہ سے کہا ہے کہ عمران خان کو فراہم کردہ سکیورٹی دو گنا بڑھا دی جائے۔ جب کہ اس کے علاوہ پورے جی ٹی روڈ پر اسلام آباد تک جہاں جہاں مسلم لیگ (ن) کے دفاتر ہیں اُنھیں بند رکھنے کا کہا گیا ہے۔‘‘

عمران خان نے گزشتہ سال کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات نہ ہونے پر حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا اور جمعرات کی سہ پہر ان کی ریلی لاہور سے روانہ ہوئی تھی۔

دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کا قافلہ اپنے قائد طاہر القادری کی قیادت میں براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی طرف روانہ ہے۔

حکومت نے اولاً لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں ان قافلوں کو روکنے کے لیے کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے تھے لیکن جمعرات کو انھیں جزوی طور پر ہٹا دیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت میں ان قافلوں کو "زیروپوائنٹ" تک آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

زیرو پوائنٹ پر ملک کے مختلف شہروں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ سے آئے ہوئے تحریک انصاف کے کارکنوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور انتخابی اصلاحات کے لیے نکلے ہیں۔

اسلام آباد میں بھی رواں ہفتے کے اوائل سے تمام داخلی راستوں کے علاوہ شہر کے اہم مقامات کو جانے والی سڑکیں کنٹینرز لگا کر بند کر دی گئی تھیں لیکن جمعہ کو یہاں بھی جزوی طور پر راستے کھول دیے گئے۔

لیکن غیر ملکی سفارتخانوں اور اہم سرکاری عمارتوں والا علاقہ "ریڈزون" مکمل طور پر سیل ہے اور یہاں کسی بھی طرح کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو ان کے جمہوری حق سے نہیں روکا جائے گا لیکن اگر کسی نے خلاف قانون کام کرتے ہوئے ’ریڈ زون‘ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

اسلام آباد اور اس کے ارد گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 25 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG