رسائی کے لنکس

مسلم لیگ (ن) میں ’کوئی الگ دھڑا نہیں ہے‘


نثار علی خان (فائل فوٹو)

نثار علی خان (فائل فوٹو)

کئی ہفتوں سے یہ چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ حکمران جماعت میں سے کوئی اور وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے سامنے آ سکتا ہے اور ایوان کے اندر سے یعنی ’’ان ہاؤس تبدیلی‘‘ آ سکتی ہے۔

لندن میں ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف بدستور برطانیہ میں ہیں، جب کہ اُن کی حکومت کو ’پاناما لیکس‘ کے معاملے پر حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

اس تناظر میں ملک میں کئی ہفتوں سے یہ چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ حکمران جماعت میں سے کوئی اور وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے سامنے آ سکتا ہے اور ایوان کے اندر سے یعنی ’’ان ہاؤس تبدیلی‘‘ آ سکتی ہے۔

تاہم حکمران جماعت کے سینیئر رہنما اور ملک کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایسی کسی تبدیلی کو محض مفروضہ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

اُنھوں نے جمعرات کی شب اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ پاناما لیکس کے بارے میں ابھی تحقیقات ہونی ہیں اور اُس سے قبل وزیراعظم نواز شریف اپنا منصب کیوں چھوڑیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ کے حوالہ سے بھی ’’بے پرکی اڑائی جا رہی ہے‘‘ اس طرح کا سرے سے کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف عید کے بعد پاکستان واپس آ جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ بے شک پاناما لیکس کی بھی انکوائری ہونی چاہئے اور وزیراعظم نے خود اس کی پیشکش کی ہے۔

حکمران جماعت میں اختلافات کی خبروں کے بارے میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین قومی اسمبلی کو تحفظات ضرور ہیں لیکن اُن کے بقول حکمران جماعت میں کوئی فارورڈ بلاک یا دھڑا نہیں ہے۔

پاناما لیکس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام بھی اُن افراد کی فہرست میں شامل ہیں جن کے نام پر بیرون ملک ’آف شور کمپنیاں اور جائیدادیں‘ ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان میں حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ ایک اور جماعت عوامی تحریک نے بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلیت سے متعلق درخواستیں جمع کروائی ہیں۔

ان درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے خاندان نے اپنے اثاثوں سے متعلق درست تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی ہیں۔

حزب مخالف کی جماعتوں کے الزامات پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ’’بلاول بھٹو زرداری اور ان کے خاندان کی دبئی میں اربوں کی جائیداد ہے ان سے ان کی ٹیکس ریٹرنز کے بارے میں بھی پوچھا جائے۔‘‘

XS
SM
MD
LG