رسائی کے لنکس

سندھ میں سیاسی ہلچل اور انتخابی جوڑ توڑ

  • کراچی

سندھ سیاست

سندھ سیاست

گزشتہ ہفتے مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا نے رائیونڈ میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی جس میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنا کر میدان میں اترنے پر اتفاق کیا تھا

آئندہ انتخابات میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کا اس کے ہوم گراوٴنڈ یعنی صوبہ سندھ میں مقابلہ کرنے کیلئے اس کی مخالف جماعتیں عملی طور پر سرگرم ہو گئیں، جبکہ پیپلزپارٹی کے خلاف گرینڈ الائنس کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔

مسلم لیگ فنکشنل اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ میں اتفاق ہو گیا ہے کہ دونوں جماعتیں آئندہ سندھ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گی۔ مسلم لیگ فنکشنل کےجنرل سیکریٹری امتیاز شیخ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی تصدیق کرچکے ہیں۔ ساتھ ہی امتیاز شیخ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ٹنڈو الہ یارمیں مگسی برادری سے تعلق رکھنے والی گیارہ اہم سیاسی شخصیات مسلم لیگ فنکشنل میں شامل ہوچکی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے درمیان ملاقات آئندہ کچھ روز میں متوقع ہے۔

اسی سیاسی ہلچل میں سندھی قوم پرست جماعتیں بھی کھل کر میدان میں آ گئی ہیں۔

سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے کراچی میں اعلان کیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بہت بڑا گرائینڈالائنس بننے والا ہے جو قومی ایجنڈے پر انتخابات میں حصہ لے گا۔ قوم پرست جماعتیں آئندہ دو ہفتوں میں الیکشن کیلئے امیدواروں کو حتمی شکل دیں گی۔

گزشتہ ہفتے مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا نے رائیونڈ میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی جس میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنا کر میدان میں اترنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس تمام تر تناظر میں سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ہم خیال، فنکشنل لیگ اور قوم پرستوں کی ن لیگ سے قربت اور اب فنکشنل لیگ اور جےیو آئی ف کا اتحاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیپلزپارٹی کیلئے سندھ اب ترنوالہ ثابت نہیں ہو گا۔

غیر روایتی سیاسی اتحاد

تجزیہ نگاروں اور سیاسی سرگرمیوں پرگہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں کچھ غیر روایتی سیاسی اتحاد بھی وجود میں آئیں گے جیسےجے یو آئی اور جماعت اسلامی کا اتحاد۔ جمعیت علماء اسلام (ف) نے جماعت اسلامی سے بھی روابط بڑھا دیئے ہیں۔ اگر دونوں جماعتیں انتخابی اتحاد کی جانب جاتی ہیں تو صوبہ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا متوقع اتحاد

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قائد اعظم ایک دوسرے کی اتحادی ہیں اور ق لیگ کے صدر چوہدی شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحادقائم رہے گا ۔ق لیگ کی قیادت نے آئندہ عام انتخابات بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ لڑنے کا اعلان کیا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کا فیصلہ ہو نا باقی ہے۔

سنی اتحاد کونسل اور ق لیگ

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ فضل کریم نومبر میں ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کرچکے ہیں جبکہ اس بات کے وہ خود اشارے دے چکے ہیں کہ دونوں جماعتیں آئندہ عام انتخابات مل کر لڑیں گی۔

ن لیگ کا صوبائی سطح پر اتحاد کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کی قیادت نے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے کسی ایک پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بجائے صوبوں کی بنیاد پر اتحاد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف آج کل سندھ کے دورے پر ہیں اور سندھ کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف قریب قریب

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے کافی قریب قریب ہیں اور دونوں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے سے انتخابی اتحاد کا گرین سگنل تو دیا ہے لیکن دونوں ہی جماعتوں کی طرف سے ابھی تک کسی بھی قسم کے سیاسی اور انتخابی اتحاد کی بات نہیں کی گئی ۔

جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کئی معاملات پر مشترکہ موقف رکھتی ہیں۔ اس لئے عمران خان نظریاتی طور پر ان سے قریب ہیں۔ تاہم، انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کا بھی یہی کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی اتحاد ممکن ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG