رسائی کے لنکس

استعفوں سے سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے: مولانا فضل الرحمٰن


مولانا فضل الرحمن (فائل فوٹو)

مولانا فضل الرحمن (فائل فوٹو)

’ایم کیو ایم‘ کی طرف سے استعفوں کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں میں اس بارے میں مشاورت بھی کی۔

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں جاری رینجرز آپریشن پر تحفظات دور نہ کیے جانے پر احتجاجاً پارلیمان اور سندھ اسمبلی میں اپنے ارکان کے استعفے جمع کروائے جس کے بعد پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے اس بارے میں مشاورت کرنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ’ایم کیو ایم‘ کی قیادت سے رابطہ کر کے معاملے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ان استعفوں سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ جب ایک بار استعفے جمع کروا دیے جائیں تو آئین کی رو سے اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں انھیں یہ بتایا گیا آئین کی تشریح عدالت عظمیٰ کا کام ہے اور ایسے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں استعفے واپس لینے کی گنجائش موجود ہے۔

"میں آئینی ماہرین سے مشاورت کروں گا اگر واقعتاً آئین اور قانون میں گنجائش موجود ہے تو ذاتی پرخاش تو نہ پہلے کسی رکن سے تھی اور نہ اب ہے۔۔۔ہمارا اصرار اس پر رہا ہے کہ آئین و قانون کی پیروی کی جائے۔"

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت کی طرف سے ذرائع ابلاغ میں آنے والے بعض بیانات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں اور ان کے بقول وہ قانونی مشیروں کی رائے کے بعد اس ضمن میں جو بھی ضروری اقدام ہو گا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں 24، سینیٹ میں آٹھ اور سندھ اسمبلی میں 51 نشستیں ہیں اور یہ سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً کراچی کی ایک بااثر جماعت تصور کی جاتی ہے۔

ستمبر 2013ء میں کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد قیام امن کے لیے رینجرز اور پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن بعد میں ایم کیو ایم یہ الزام عائد کرتے ہوئے اس آپریشن پر تنقید کرتی آئی کہ اس میں بطور خاص متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن حکومت اور سیکورٹی حکام کی طرف سے اس دعوے کا استرداد ہی سامنے آیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کہتے ہیں کہ ’ایم کیو ایم‘ عوام کی ایک نمائندہ جماعت ہے اور حکومت ہر جماعت کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کے آپریشن سے متعلق تحفظات کو دور کیا جائے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے رینجرز کے خلاف الزامات میں شدت رواں سال مارچ میں اس جماعت کے کراچی میں مرکزی دفتر "نائن زیرو" پر چھاپے کے بعد آئی اور پھر لندن میں مقیم اس جماعت کے قائد الطاف حسین کی طرف سے اپنی تقاریر میں سخت زبان کا استعمال حکومت کے لیے درد سر بنا۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ الطاف حسین کی "اشتعال انگیز" تقاریر پر ان خلاف قانونی طور پر برطانوی حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

ایم کیو ایم کا اصرار ہے کہ وہ تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتی ہے لیکن ان کے بقول جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کی آڑ میں اس جماعت کو ہدف بنایا جانا کسی طور قابل قبول نہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفے منظور کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

XS
SM
MD
LG