رسائی کے لنکس

یوسف رضا گیلانی نے جلسہ عام سے خطاب میں اعلان کیا کہ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے تینوں بیٹے سید مصطفی محمود، سید مرتضیٰ محمود اور سید علی محمود پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں

مسلم لیگ فنکشنل کے سابق رہنما اور موجودہ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کےتین بیٹے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس بات کا اعلان اتوار کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے رحیم یار خان میں ایک جلسہ عام سے خطاب میں کیا۔

یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے تینوں بیٹے سید مصطفی محمود، سید مرتضیٰ محمود اور سید علی محمود پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔سید مصطفی محمود مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی جبکہ سید مرتضیٰ محمود صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

اس سے ایک روز قبل جہلم سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی راجہ صفدر اور ان کے بھائی راجہ اسد نے اپنے والد راجہ محمد افضل کے ہمراہ ن لیگ چھوڑ کر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح دو دنوں کے دوران چھ افراد نے اپنی اپنی پارٹیاں تبدیل کی ہیں۔

پرانے سیاستدانوں کی نئی نسل

چونکہ پاکستان میں اس سال عام انتخابات ہوں گے۔ لہٰذا، سیاسی پارٹیوں نے نئے انتخابات کے حوالے سے اپنی صفیں سیدھی کرنا شروع کردی ہیں۔ سیاسی رہنماوٴں میں پارٹیوں کی ادلہ بدلی بھی جاری ہے اور پرانے سیاستدانوں کی جانب سے نئے چہروں کو بھی متعارف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔

بلاول بھٹو زرداری

آنے والے نئے سیاسی چہروں میں سب سے نمایاں چہرہ بلاول بھٹو زرداری کا ہے۔ وہ اس حوالے سے خوش نصیب ہیں کہ ابھی 19 برس میں ہی تھے کہ پی پی پی کے چیئرمین بنا دیئے گئے۔ اس وقت وہ 24 برس کے ہیں اور انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے گریجویشن بھی مکمل کرلی ہے۔ ان کی سب سے بڑی ’صلاحیت‘ ان کا’ خاندان‘ ہے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بینظیر بھٹو کے صاحبزادے ہیں۔صدر آصف علی زردادی انہیں اہم اجلاسوں میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری ان کی بہن ہیں اور وہ بھی اپنے والد کے ساتھ اکثر اہم اجلاسوں میں نظر آتی ہیں۔ گویا ان کی ابھی سے سیاسی ٹریننگ ہورہی ہے۔

عبدالقادر گیلانی، موسیٰ گیلانی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی اور علی موسیٰ گیلانی دونوں بیرونی یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہیں اور سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں۔ علی موسیٰ گیلانی کا نام ایفی ڈرین کیس کے حوالے سے خبروں میں آتا رہاہے ۔

حمزہ شہباز شریف

حمزہ شہباز شریف پڑھے لکھے نوجوان ہیں اور پنجاب میں اپنے والد کی بیساکھیوں کے سہارے سیاست میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ محنتی، جفاکش اور کام میں تیز ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں دانش اسکولوں کے قیام کا جو منصوبہ شروع کیا آنے والا وقت اس اقدام کے اچھے نتائج دے سکتا ہے۔ وہ مستقبل میں پنجاب کی سیاست میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مریم نواز شریف

مریم نواز شریف، میاں نواز شریف کی صاحبزادی ہیں۔ پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی خاتون ہیں اور اب اپنی پارٹی کی سیاسی میٹینگز میں خاصی سنجیدگی سے حصہ لیتی نظر آتی ہیں۔ممکن ہے موجودہ سیاست میں وہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک بہتر کردار ادا کر سکیں۔

فاطمہ بھٹو

فاطمہ بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی ہیں۔ نوجوان، تعلیم یافتہ اور کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں۔بہت کم عمری میں اپنے والد کو کھو دینے کے بعد انکی شخصیت میں جلد ہی تدبر نے گھر کرلیا۔ ان کی والدہ غنویٰ بھٹو اعلان کرچکی ہیں کہ فاطمہ نئے انتخابات میں پنجاب سے کھڑی ہوں گی۔

مونس الٰہی

مونس الٰہی پرویز الٰہی کے صاحبزادے ہیں اور چوہدری ظہور الٰہی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔گجرات کی سیاست میں چوہدری شجاعت کے بعد سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں۔

پاکستانی سیاست۔۔۔مخصوص گھرانوں کی میراث

سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے ہی چند گھرانوں کی میراث رہی ہے۔ان کے بقول ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ذات پات، برادری سسٹم، قبائلی نظام اور مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری سیاست کا محور نہ رہی ہو۔ قیام پاکستان سے پہلے بھی مقامی سیاست چند خاندانوں کے ہاتھوں میں تھی اور آج بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔

اس حوالے سے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی سابق چیئرپرسن اور بورڈ آف ایڈوانس اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ کی ممبر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد کا کہنا ہے موجودہ دور کے متعدد سیاستدان ایسے ہیں جو گزشتہ تیس بتیس سال سے سیاسی منظر نامے پر چھائے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ، ’یہی نہیں، بلکہ آنے والے انتخابات تک ان کی نئی نسل بھی سیاسی میدان میں اتر آئے گی۔ بلاول بھٹو زرداری اور فاطمہ بھٹو تو باقاعدہ آنے والے انتخابات کے حوالے سے اپنے ارادے ظاہر کرچکے ہیں۔ ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دو صاحبزادے عبدالقادر گیلانی اور علی موسیٰ گیلانی بھی سیاست میں قدم رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔“
XS
SM
MD
LG