رسائی کے لنکس

مراسلہ اسکینڈل: وضاحت پیش کرنے کے لیے حقانی کی پاکستان آمد


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کا موقف سننے کے بعد ہی امریکی قیادت کو بھیجے گئے متنازع خفیہ مراسلے کی تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔

لاہور میں اتوار کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تفصیلات منظر عام پر آنے سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’حقانی کو اپنا موقف پیش کرنے دیں کہ میں نے یہ بات کی ہے، تو اُس کے بعد پھر آگے بات چلے گی۔‘‘

حکومت کی ہدایت پر حسین حقانی خفیہ مراسلے کے معاملے پر وضاحت پیش کرنے کے لیے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچے لیکن اعلیٰ قیادت سے اُن کی ملاقاتوں کے شیڈول کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

حسین حقانی نے ہفتہ کو واشنگٹن سے روانگی سے قبل پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی مارک گراسمین سے بھی 35 منٹ کی ملاقات کی تھی، اور اطلاعات کے مطابق امریکی عہدے دار نے بھی اس موقف کو دہرایا کہ سابق ایڈمرل مائیک ملن کو مراسلہ موصول ضرور ہوا تھا لیکن اُنھوں نے اُسے کوئی اہمیت نا دیتے ہوئے نظر انداز کر دیا تھا۔

حسین حقانی پر الزام ہے کہ اُنھوں نے مئی میں پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز کے توسط سے صدر آصف علی زرداری سے منسوب مراسلہ ایڈمرل ملن کو بھیجا تھا جس میں امریکی قیادت سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کی برطرفی کے لیے واشنگٹن کی حمایت طلب کی گئی تھی۔ یہ مطالبہ اُن خدشات کے تناظر میں کیا گیا کہ ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد فوج جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ سکتی ہے۔

لیکن حکومت اور خود حسین حقانی ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

اتوار کو میڈیا سے گفتگو میں وزیر دفاع احمد مختار نے حسین حقانی پر الزام عائد کرنے والے پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

’’جہاں تک منصور اعجاز کا تعلق ہے وہ بڑا سازشی آدمی ہے، اس نے پہلے بھی ایسے کام کیے ہوئے ہیں۔‘‘

دریں اثنا ایک مقامی انگریزی اخبار کے مطابق منصور اعجاز نے گزشتہ ماہ لندن میں آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملاقات کی تھی جس میں اُنھوں نے اس معاملے سے متعلق اہم شواہد بھی جنرل شجاع پاشا کے حوالے کیے۔

ناقدین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ متنازع مراسلے کے باعث فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، لیکن وزیر اعظم اپنے حالیہ بیانات میں یہ بات زور دے کر کہتے رہے ہیں کہ اس معاملے کا منطقی انجام کچھ بھی ہو اُن کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔

امریکی محکمہء خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی مراسلہ پر براہ راست تبصرے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ امریکہ ’’پاکستان کی جمہوری حکومت اور اس کے آئینی اقدامات کی حمایت کرتا ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG