رسائی کے لنکس

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے اس واقع میں حفاظتی انتظامات میں کوتاہی بظاہر عیاں ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ موقع پر موجود گورنرپنجاب کے باقی محافظوں نے حملہ آور کی کارروائی پر کوئی فوری ردعمل نہیں کیا جو اُن کے بقول ایک کوتاہی تھی اور یہ حفاظت پر معمور عملے کی پیشہ وارانہ تربیت کے فقد ان کی غمازی کرتی ہے۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی تحقیقات پولیس اور فوج کے عہدیدار مشترکہ طور پر اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز بنی امین کی سربراہی میں کر رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق قاتلانہ حملہ کرنے والے محافظ کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت ایک درجن سے زائد مشتبہ افراد کوشامل تفتیش کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ اگر مقتول گورنر کا خاندان مشترکہ ٹیم کی تحقیقات سے مطمئن نا ہوا تو اس واقع کی عدالتی تحقیقات بھی کرائی جا سکتی ہیں۔

وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

بدھ کی شب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اُنھوں نے بتایا کہ گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز حسین قادری کے ساتھ ڈیوٹی سر انجام دینے والے پنجاب پولیس کے دوسرے اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ گذشتہ دنوں میں ان کے درمیان ہونے والی بات چیت کا جائزہ لے کر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

پولیس کی انتہائی تربیت یافتہ ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے والے چھبیس سالہ اہلکار کے خلاف بدھ کے روز قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج ہونے کے بعد اُنھیں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ جمعرات کو اُنھیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مقتول گورنر نے حالیہ دنوں میں توہین رسالت کے قانون میں پائی جانے والی متنازع خامیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے ”کالا قانون“ قرار دیا تھا۔ رحمن ملک نے کہا کہ ”دیکھنا یہ ہے کہ کیا گستاخی ہوتھی یا نہیں“۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی وزراء نے واضح کر دیا تھا کہ توہین رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے اس واقع میں حفاظتی انتظامات میں کوتاہی بظاہر عیاں ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ موقع پر موجود گورنرپنجاب کے باقی محافظوں نے حملہ آور کی کارروائی پر کوئی فوری ردعمل نہیں کیا جو اُن کے بقول ایک کوتاہی تھی اور یہ حفاظت پر معمور عملے کی پیشہ وارانہ تربیت کے فقد ان کی غمازی کرتی ہے۔

تسنیم نورانی نے کہا کہ اعلیٰ سرکاری شخصیات کی حفاظت پر معمور افراد کی تعیناتی کاایک جامع طریقہ کار موجود ہے اور انکوائر ی کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیاسلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی یہ ڈیوٹی کیسے لگی۔

سندھ پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل افضل شگری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگر گورنر پنجاب کے قاتل کو جوابی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیاجاتا تو اُس سے کئی سوالات جنم لیتے۔ اُنھوں نے کہا کہ پولیس کی اولین ترجیح ہوتی ہے کہ قاتل کو زندہ گرفتار کیا جائے۔

سلمان تاثیر پاکستان میں ایک میڈیا گروپ کے مالک بھی تھے اور اُن کے قتل پر فرانس میں قائم آزادی صحافت کی علم بردار تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بورڈرز نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں عدم برداشت کی ایسی فضا میں آزاد خیال عوامی شخصیات پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اگر ریاست نے میڈیا اور ایسے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اور مناسب انتظامات نہ کیے توتشدد کے ایسے ماحول میں ذرائع ابلاغ آزاد ی اظہار پر ازخود پابندی پر مجبور ہوتے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG