رسائی کے لنکس

بے نظیر قتل میں فوجی افسر کے ملوث ہونے کی خبر کی تردید


رحمن ملک

رحمن ملک

رواں ہفتے بے نظیر بھٹو کی تیسری برسی کے موقع پر جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس رپورٹ پرغور کرنا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کی عدم موجودگی کے باعث یہ بحث موخر کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی ایک اعلیٰ فوجی افسر کے گھر پر کی گئی تھی۔

انگریزی روزنامہ ”ایکسپریس ٹری بیون“ نے جمعہ کو خبر دی تھی کہ وزارت داخلہ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق دسمبر 2007ء میں ہوئے قاتلانہ حملے کی سازش اور اس پر عمل درآمد میں ایک برگیڈیئر سمیت نو افراد ملوث تھے۔

تاہم جمعہ کی دوپہر کراچی کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے اس خبر کو ’سراسر من گھڑت اور بالکل جھوٹی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی واضح الفاظ میں تردید کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بارے میں جتنی تحقیقاتی رپورٹیں اُن کی نظر سے گزری ہیں اُن میں سے کسی میں بھی ایسی معلومات کا ذکر نہیں ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حال ہی میں مرتب کی گئی وفاقی تحقیقاتی ادار ے کی رپورٹ تاحال نا صدر آصف علی زرداری اور نا ہی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کو پیش کی گئی ہے ۔

رواں ہفتے بے نظیر بھٹو کی تیسری برسی کے موقع پر جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس رپورٹ پرغور کرنا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کی عدم موجودگی کے باعث یہ بحث موخر کر دی گئی ہے۔

جمعہ کو شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ رحمن ملک کے پاس ہے اور اب تک صرف صدر زرداری نے اس کو دیکھا ہے ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ صدر نے اس میں موجود معلومات کو فوری طور پر منظر عام پر نا لانے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ وہ مشتبہ فوجی افسران کی گرفتاری کا حکم دینے سے قبل فوجی قیادت کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔

خبر کے مطابق قاتلانہ حملے میں ملوث نو افراد میں سے پانچ زندہ ہیں جب کہ بقیہ چار جن میں بے نظیر پر حملے میں براہ راست ملوث افراد بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

دو مرتبہ منتخب ہونے والی وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو ستائیس دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد جب واپس جا رہی تھیں تو ان پر ہتھیاروں اور بم سے جان لیوا حملہ کیا گیا تھا۔

اُس وقت کی حکومت نے حملے کا ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت الله محسود کو ٹھہرایا لیکن جماعت کے عہدیداروں کے علاوہ بعض حلقوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملے کی سازش میں حساس ادارے ملوث تھے۔

بے نظیر قتل سے متعلق ایک مقدمہ راولپنڈی کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور عدالت کے حکم پر حال ہی میں اُس وقت کے دو اعلیٰ پولیس افسران کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG