رسائی کے لنکس

ذوالفقار مرزا نے الزامات کا نیا پٹارہ کھول دیا


Zulfikar Mirza

Zulfikar Mirza

صوبہ سندھ کے سابق وزیرداخلہ اور پیپلز پارٹی کے مستعفی رہنما ذوالفقار مرزا نے متحدہ قومی موومنٹ ، الطاف حسین اوروفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے بعد اب ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری کے خلاف بھی الزامات کا نیا پٹارہ کھول دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے امریکا سے بھی یہ شکایت کی ہے کہ وہ پیپلزپارٹی سے زیادہ ایم کیو ایم کو اہمیت دیتا ہے ۔

دوسری جانب تمام الزامات کے باوجود ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی میں ڈیڈ لاک ختم ہونے کے واضح اشارے مل رہے ہیں جبکہ ذوالفقار مرزا کے انکشافات کوپیپلز پارٹی کوئی اہمیت نہیں دے رہی۔

پیر کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو سے انٹرویو میں ذوالفقار مرزا نے ایم کیو ایم کے سابق وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بڑی تعداد میں اسلحہ سے بھرے کنٹینرز غائب کرائے ۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایم کیو ایم کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاس انتہائی جدید اسلحہ موجود ہے ۔متحدہ پر ایک اور الزام لگاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کنٹینرزمالکان سے روزانہ ایک سے سوا کروڑ روپے بھتہ بھی وصول کرتی ہے ۔

اس موقع پر ذوالفقار مرزا نے امریکا سے شکایت کی کہ وہ پیپلزپارٹی سے زیادہ ایم کیو ایم کو اہمیت دیتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت سے ملاقات کا ان کے پاس وقت نہیں ہوتا لیکن اگر لیاقت آباد پر ایم کیوایم کوئی پل بھی بناتی ہے تو امریکی حکام اس کی تعریف کرنے وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔

انکشافات کے باوجود پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم میں قربت

اگر چہ مبصرین اور ماہرین ذوالفقار مرزا کے انکشافات کے بعد ملکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی محسوس کر رہے تھے تاہم گزرتے وقت کے آفٹر شاکس میڈیا اور عوامی حلقوں تک ہی محدود رہے اور سیاسی منظر نامہ جوں کا توں نظر آیا ، ایم کیو ایم نے فوری طور پر ماضی کے برعکس کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور محض الزامات کو جھوٹ کا پلند ہ قرار دیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کراچی کے حالات پر بدستور ہدایات جاری کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے ذوالفقار مرزا کے الزامات کو ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی اور ایم کیو ایم سے اتحاد کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ذوالفقار مرزاکے اعتراضات کے باوجود پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے وفود کی ملاقاتیں جاری ہیں اور ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی کا قوی امکان ہے۔

جمعرات کو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم میں اتحاد قائم کرنے میں مصروف عمل وفاقی وزیر خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن کے لئے تمام جماعتوں کو مل کر چلنا ہو گا ، کبھی ذوالفقار مرزا نے الزامات لگائے تو کبھی ان کے مخالفین نے تاہم حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ کوئی بے گناہ شہری قتل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے اور کوئی بھی فیصلہ لیڈر شپ کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔

متحدہ اورحکومتی ارکان میں اہم ملاقاتیں

ادھر پیر کو پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ، صوبائی وزیر آغا سراج درانی اور سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملاقاتیں کیں جن میں صوبے کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ منظور وسان نے امید ظاہر کی کہ ایم کیو ایم اگلے ہفتے تک حکومت میں شامل ہوجائے گی۔

گورنر ہاؤس میں کی جانے والی ملاقاتوں میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعلقات اور ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد صدارتی ٹیم کے نمائندے خورشید شاہ اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں وہ گورنر سندھ سے ملاقات کے حوالے سے صدر زرداری کو رپورٹ پیش کریں گے۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم آئندہ ہفتے تک حکومت میں شامل ہوجائے گی۔

دوسری جانب میڈیا سے بات چیت میں منظور وسان نے کہا کہ متحدہ حکومت کے ساتھ کام کرنے پر سنجیدہ ہے،ایم کیو ایم سے وزارتوں پر کوئی جھگڑا نہیں، ایم کیو ایم کو ان کی تمام وزارتیں واپس دیں گے، اگر وزارتیں دینے پر اتحادی ناراض ہوئے تو پیپلز پارٹی قربانی دینے کو تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG