رسائی کے لنکس

ممتاز بھٹو کے بیٹے پر مقدمہ، ن لیگ او رپیپلزپارٹی آمنے سامنے


ممتاز بھٹو

ممتاز بھٹو

مقدمے کے اندراج کے خلاف مسلم لیگ ن کے کارکنان نے حیدر آباد پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا جس میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی

سندھ میں مسلم لیگ ن کے اہم رہنما ممتاز بھٹو کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مسلم لیگ ن کے اہم رہنما اور سابق قوم پرست جماعت کے قائد ممتاز بھٹو کے بیٹے امیر بخش بھٹو کے خلاف لاڑکانہ میں پولیس نے زمین کے تنازع پر تین افراد کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔منگل کو مقدمے کے اندراج کے خلاف مسلم لیگ ن کے کارکنان نے حیدر آباد پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا جس میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہوکر ریاستی دہشت گردی پر اتر آئی ہے۔

کراچی میں موجود سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ن کی قیادت پر بھرپور سیاسی حملے جاری ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اس فیصلے کو انتخابی مہم کا حصہ بنا رکھا ہے جس کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ سنہ 1990 کے انتخابات میں نواز شریف اور شہباز شریف نے اس وقت کی آئی ایس آئی کی قیادت سے رقوم لی تھیں۔

تاہم، مسلم لیگ ن کی قیادت رقوم لینے کی تردیدکرتی رہی ہے لیکن بظاہر پیپلزپارٹی کے حملوں کا جواب دینے کیلئے وہ ممتاز بھٹو کے بیٹے پر مقدمہ کے اندراج کو جواز بنانا چاہتی ہے۔ اسی لئے نواز شریف نے ممتاز بھٹو اور امیر بھٹو سے اظہاریکجہتی کیلئے 31 اکتوبر کولاہور میں ہونے والاسندھ کے رہنماوٴں کا اجلاس ملتوی کردیا اور انہیں 31 اکتوبر کو لاڑکانہ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اور وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کے مطابق ممتاز بھٹو اور ان کے بیٹے امیر بھٹو ’کا قد اتنا بڑا نہیں کہ ان پر سیاسی مقدمات قائم کیے جائیں‘۔
اُن کے بقول، یہ دو گروپوں کا جھگڑا تھا جس پر پولیس نے کارروائی کی۔

مبصرین کے مطابق ملک میں جہاں نگراں سیٹ اپ کیلئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے سر جوڑنے کا وقت ہے، اس وقت اصغر خان کیس کا فیصلہ مسلم لیگ ن کے لئے کسی بڑے سیاسی جھٹکے سے کم نہیں۔
XS
SM
MD
LG