رسائی کے لنکس

پہلے ان جلسے اور جلوسوں کو سیاسی و جمہوری حق قرار دینے والی حکمران جماعت کا اب احتجاج کی اس نئی لہر پر بظاہر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایک مقامی نجی ٹی وی چینل کی متجاوز نشریات پر معافی کے بعد ذرائع ابلاغ سے متعلق بحران کی شدت میں کمی آئی ہی تھی کہ ادارہ منہاج القران اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

جبکہ ق لیگ پہلے ہی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے خلاف اور انتخابی اصلاحات کے لیے جاری احتجاجی مہم کی حمایت کرچکی ہے۔

لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہرالقادری نے بتایا کہ وہ رواں ماہ نواز شریف انتظامیہ کے خلاف تحریک شروع کرنے کے لئے پاکستان آرہے ہیں۔

’’اس وقت پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا کوئی وجود نہیں۔ سیاسی آمریت اور بادشاہت قائم ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جملہ محب وطن جماعتیں اور طبقے ایک وسیع تر جمہوری و عوامی ایجنڈے پر متفق ہوں۔‘‘

ادھر پہلے ان جلسے اور جلوسوں کو سیاسی و جمہوری حق قرار دینے والی حکمران جماعت کا اب احتجاج کی اس نئی لہر پر بظاہر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور وزیراعظم نواز شریف سمیت کابینہ کے متعدد وزرا آئے روز حزب اختلاف کی جماعتوں کی اس حکمت عملی کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔

حکومت میں شامل عہدیدار بار ہا یہ کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف انتظامیہ اور فوج میں کوئی اختلاف نہیں اور تمام امور پر فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں۔

تاہم وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان احتجاجی مہم میں ان کے اتحادی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ان کے بقول دفاعی اداروں کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ فوج اور حکومت میں اختلافات ڈال رہے ہیں۔

’’آپ اپنی باری کا انتظار کریں۔ عمران خان کی حکومت نے خیبرپختونخواہ میں کیا کیا ہے۔ بتایا جائے قوم کو کہ آپ کا ایجنڈا کیا ہے کبھی آپ چار حلقوں کی بات کرتے ہیں تو کبھی ہمارے وزیراعظم کے بھارت کے دورے پر تنقید کرتے ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کی پیداوار ہیں۔‘‘

تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک کا مقصد سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا نہیں بلکہ ملک میں جمہوری اقدار کا صحیح معنوں میں فروغ اور نفاذ ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور فوج میں اختلاف کی ایک وجہ نواز انتظامیہ کا شدت پسندی سے نمٹنے کا طریقہ کار ہے۔ ان کے بقول فوج اب مذاکرات میں ٹائم ضائع کرنے کی بجائے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی چاہتی ہے۔ طالبان سے حکومت کے امن مذاکرات گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔

پنجاب یورنیورسٹی کی شعبہ پولیٹیکل سائنس کی سربراہ امبرین جاوید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا

’’ان دھرنوں، احتجاجوں سے ایک ماحول بن جاتا ہے۔ پھر امن و امان کا مسئلہ اور میڈیا کا ہر بات کو اچھالنا تو یہ حکومت کے لیے کوئی آرام سے رہنے کی باتیں نہیں۔ جو جو خدشے ہوتے ہیں سیاسی لیڈر انہیں میڈیا میں لے آتے ہیں اور وزرا نے بھی یہی کیا۔‘‘

پارلیمانی سال مکمل ہونے پر صدر مملکت ممنون حسین پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جس میں بعض سرکاری عہدیداروں اور مبصرین کے مطابق وہ ملک میں سیاسی و جمہوری نظام کے تسلسل اور اسے مستحکم بنانے پر زور دیں گے۔
XS
SM
MD
LG