رسائی کے لنکس

عمران خان کا ضمانت نا کروانے کا اعلان


عمران خان اور طاہر القادری

عمران خان اور طاہر القادری

عدالت نے یہ وارنٹ یکم ستمبر کو پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں جاری کیے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت مخالف ایک دوسری جماعت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے لیے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

پاکستان میں گزشتہ تین ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی میں اتار چڑھاؤ تو دیکھا جاتا رہا ہے لیکن تاحال اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

حکومت اور اس کی مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ایک دوسرے کو سخت سست سنائے جانے کا سلسلہ تو جاری ہی تھا لیکن انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور یوں بیان بازیوں کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔

عدالت نے یہ وارنٹ یکم ستمبر کو پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں جاری کیے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت مخالف ایک دوسری جماعت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے لیے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

یہ دونوں جماعتیں اگست کے وسط سے حکومت مخالف مارچ لے کر اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ اسلام آباد آئیں اور یہاں دو ماہ سے زائد عرصے تک دھرنا دیے رکھا۔

عمران خان کا دھرنا تو ابھی تک موجود ہے لیکن طاہر القادری گزشتہ ماہ یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ اب وہ ملک کے کونے کونے میں دھرنے دیں گے۔

عمران خان نے اپنے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد یہ کہا تھا کہ وہ اپنی ضمانت کے لیے بھی رجوع نہیں کریں گے اور انھوں نے انتباہی انداز میں کہا کہ اگر حکومت انھیں گرفتار کر سکتی ہے تو کرے۔

تحریک انصاف کا موقف ہے کہ یہ وارنٹ گرفتاری حکومت کی مبینہ ایما پر جاری کیا گیا جس کا مقصد پی ٹی آئی کی طرف سے 30 نومبر کو اسلام آباد میں اعلان کردہ جلسے میں خلل ڈالنا ہے۔

جماعت کے ایک مرکزی رہنما عارف علوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کو سراسر غلط اقدام قرار دیا۔

"یہ غلط کیا ہے، غلط آرڈیننس میں کیا ہے اور حکومت کو اس پر جو کرنا ہے وہ خود کرے۔"

عمران خان حکومت پر گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے سراپا احتجاج ہیں جب کہ معاملے کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکراتی ادوار بھی بے نتیجہ رہنے کے بعد تعطل کا شکار ہیں۔

حکومتی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے ان تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کو تیار ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں آتے ہیں اور ان میں سے بعض پر پیش رفت بھی ہو چکی ہے لیکن ان کے بقول پی ٹی آئی کے عزائم مبینہ طور پر کچھ اور ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر اس احتجاجی سیاست کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مخالفین کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

جمعران کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان اب اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔ان کو بھی چاہیے کہ وہ اس میں حصہ ڈالیں اور انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی جو کوششیں تھیں پاکستان کو جکڑ کر رکھنے کی وہ ناکام ہو گئی ہیں۔"

حالیہ دونوں میں دونوں جانب سے یہ بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن بظاہر دونوں ہی اس میں پہل کے لیے ایک دوسرے کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG