رسائی کے لنکس

سیاسی جماعتیں عام انتخابات کی تیاری کریں: وزیراعظم


وزیراعظم راجہ پرویز اشرف

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف

وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ عام انتخابات سے قبل ملک میں بہتر سیاسی ماحول قائم کرنے میں وہ حکومت کی حمایت کریں۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ عام انتخابات سے قبل ملک میں بہتر سیاسی ماحول قائم کرنے میں وہ حکومت کی حمایت کریں۔

سرکاری ریڈیو پر ان کے خطاب کی جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کو انتخابات کی تیاری کا مشورہ بھی دیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو راجہ پرویز اشرف نے مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین سے ٹیلی فون پر رابطے بھی کیے تھے جن کا مقصد منصفانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک دوستانہ ماحول کا فروغ بتایا گیا۔

وزیراعظم کی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی نے ملک میں ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ مخلوط حکومت موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں توسیع یا پھر قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کرنے کی مہم پر چل نکلی ہے۔

لیکن بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

’’ہم ہمیشہ سے یہ کہہ رہے تھے کہ الیکشن وقت پر ہوں گے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ انتخابات قبل از وقت ہوں گے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ بعد از وقت ہوں گے۔ ان کا انعقاد (مقررہ) وقت پر ہو گا۔‘‘

اُدھر قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے بدھ کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ عید الفطر کے بعد ان کی پارٹی تمام اپوزیشن جماعتوں سے ملک میں نگران حکومت کے قیام کے لیے مشاورت کا سلسلہ شروع کرے گی۔

ایک ایسے وقت جب وزیراعظم کو سوئس حکام کو خط نا لکھنے پر سپریم کورٹ نے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں 27 اگست کو طلب کر رکھا ہے، سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگیوئیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں کہ راجہ پرویز اشرف کو بھی توہین عدالت کے جرم میں عدالت نا اہل قرار دے سکتی ہے۔

ان قیاس آرائیوں کو اس وقت تقویت ملی جب پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنماء اور سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل سینیٹر اعتزاز احسن نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے سزا سے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

اُدھر انتخابی اور جمہوری عمل سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم نے ملک میں جمہوری ترقی کے لیے ایک مضبوط اور با اختیار پارلیمان کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک یا ’فافن‘ نے اپنی رپورٹ میں پارلیمانی عمل اور قوانین کے نفاذ کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی تجویز بھی دی ہے۔
XS
SM
MD
LG