رسائی کے لنکس

پوپ بینڈکٹ کے بیان پر پاکستانی حکومت کی تنقید


وفاقی وزیر قانون بابر اعوان (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان (فائل فوٹو)

کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے پاکستان کی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ملک میں آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

حکومت پاکستان نے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشواء پوپ بینڈیکٹ کے اُس بیان پر تنقید کی ہے جس میں اُنھوں نے پاکستان سے ناموس رسالت ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے ۔ وفاقی وزیرقانون بابر اعوان نے بدھ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اُنھیں بطور وفاقی وزیر سولہویں پوپ کے ناموس رسالت کے قانون کے بارے میں بیان پر اعتراض ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں آئین اور آزاد عدلیہ موجود ہے اور بین الاقوامی برادری اور رہنماؤں کو چاہیئے کہ وہ ایسے بیانات سے اجتناب کریں جو ملک کی عدالتوں ، آئینی نظام اور ملک کی خود مختاری پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

بابراعوان پہلے وفاقی وزیر ہیں جنہوں نے پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ پوپ نے رواں ہفتے اپنے بیان میں پاکستان سے کہا تھا کہ وہ ملک میں رائج ناموس رسالت ایکٹ کو منسوخ کرے کیوں کہ اس قانون کو عذر بنا کر اقلیتی عیسائی برادر ی کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

اُنھوں نے پاکستان کی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ملک میں آباد مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ تشدد اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

پوپ بینیڈکٹ

پوپ بینیڈکٹ

پوپ کے اس بیان پر پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی تنقید کی ہے اور اُنھوں نے آئند ہ جمعہ کے روز ایک احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے ۔

پاکستان میں توہین رسالت کے جرم کی سزا موت ہے اور حالیہ دنوں میں یہ قانون ایک بار پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے کیوں کہ ضلع ننکانہ کی ایک عدالت نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو موت کی سزا کا حکم دیا ہے اور اس خاتون سے ملاقات اور ناموس رسالت کے قانون کے بارے میں بیان پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اْن کے ایک محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

دریں اثناء ڈیرہ غازی خان کی ایک عدالت کی طرف سے امام مسجد اور اس کے بیٹے کو توہین رسالت قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں عمر قید کی سنائی ہے ۔ملزمان کے وکیل نے وائس آف امریکہ کوبتایا ہے کہ وہ جمعرات کو فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کررہے ہیں۔

مظفر گڑھ کے علاقے نورشاہ طلائی کے رہائشی محمد شفیع اور ان کے بیٹے محمد اسلم پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی دکان کے باہر لگے ہوئے میلاد مصطفی کانفرنس کے پوسٹر کو پھاڑا اور اس کی بے حرمتی کی۔

XS
SM
MD
LG