رسائی کے لنکس

آبادی میں اضافے کی شرح کم ہو کر بھی تشویشناک حد تک زیادہ

  • حسن سید

وزیراعظم گیلانی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

وزیراعظم گیلانی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

گذشتہ سالوں کے دوران پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح اگرچہ تین اعشاریہ پانچ فیصد سے کم ہو کر 2.03 فیصد پر آ گئی ہے لیکن حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح اب بھی تشویشناک حد تک زیادہ اور سماجی و اقتصادی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1951 میں ملکی آبادی صرف تین کڑوڑ 30 لاکھ تھی۔1998میں یہ بڑھ کر 13 کروڑ سے تجاوز کر گئی اور آج پاکستان 17 کروڑ سے زائد افراد کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔

منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق پاکستان میں ہر ایک سال کے اندر پورے نیوزی لینڈ جبکہ ہر پانچ سال میں پورے آسٹریلیا کے برابر آبادی کا اضافہ ہو رہا ہے۔

پیر کو آبادی کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اگر عوام کو صحت ، تعلیم، خوراک ، صاف پانی، توانائی اور رہائش کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تو آبادی پر قابو پانے کے لئے مربوط کوششیں کرنا ہوں گی ۔‘‘اگر آبادی میں اضافے کی شرح اقتصادی ترقی کی رفتار سے تیز ہو تو عوام کی سماجی اور اقتصادی ضروریات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں اور اس کا نقصان سب کو ہوتا ہے خاص طور پر غریبوں کو’’۔

وزیر اعظم نے بچوں کی پیدائش میں وقفے کے سلسلے میں نچلی سطح پر مفت یا انتہائی ارزاں خرچ پر خدمات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اٹھارھویں آئنی ترمیم کے تحت بہبود آبادی سمیت کئی وزارتوں کی صوبوں کو منتقلی سے عوام کو بہتر سماجی خدمات میسرآ سکیں گی۔

عالمی غیر سرکاری تنظیم پاپولیشن کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ صرف 30 فیصد افراد مانع حمل کے طریقوں پر عمل کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق ہر چار بچوں میں سے ایک بچے کی پیدائش غیر ارادی طور پر ہو رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کے ایک عہدیدار ملک احمد خان نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 30 لاکھ سے زیادہ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اوراس شرح سے اس کی آبادی پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے کو روکنے کے لئے بچوں کی تعداد محدود رکھنے کی اہمیت اجاگر کرنے کے علاوہ عوام کو ضبط حمل کی اشیاء کی با آسانی فراہمی کو یقینی بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG