رسائی کے لنکس

پچھلے ایک سال میں تقریباً 60فیصد پاکستانیوں کی معاشی حالت ابتر ہوئی ہے

  • حسن سید

پچھلے ایک سال میں تقریباً 60فیصد پاکستانیوں کی معاشی حالت ابتر ہوئی ہے

پچھلے ایک سال میں تقریباً 60فیصد پاکستانیوں کی معاشی حالت ابتر ہوئی ہے

ملک میں امن وامان کی خراب صورتحال کے باعث پچھلے ایک سال میں عام لوگوں کی معاشی حالت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور لگ بھگ 60 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ تفصیلات بین الاقوامی تنظیم گیلپ انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر پاکستان میں مختلف موضوعات پر رائے عامہ پر مبنی جائزہ رپورٹیں تیار کرنے والے گیلپ پاکستان نے اپنی حالیہ سروے رپورٹ میں جاری کی ہیں۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق 31فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان کی معاشی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جب کہ صرف نو فیصد ایسے لوگ ہیں جن کا ماننا ہے کہ ان کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی ہے۔

گیلپ پاکستان کے سربراہ شفیع گیلانی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں عام لوگوں کی معاشی حالت میں ابتری کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا ذمہ دار محض حکومتی کارکردگی کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ عالمی رجحانات بالخصوص خوراک اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بھی اس ضمن میں بہت عمل دخل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان اثرات سے کس طرح محفوظ رکھا جائے اس بات کا انحصار حکومت کی جانب سے مئوثر حکمت عملی پر ہے۔

حکومت کے اقتصادی مشیروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو درپیش مشکلات کی بڑی وجہ ملک کے خصوصاً شمال مغربی حصوں میں شدت پسندوں کی پرتشدد کارروائیاں ہیں جس کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہونے سے اقتصادی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ لیکن وزارت خزانہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان مشکل حالات کے باوجود حکومت نے عام لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے اور بے روزگاری کم کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کر رکھے ہیں ۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں صوبہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر بلور کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس کی مد میں ہونے والے نقصانات نے حکومت وسائل پر شدید بوجھ ڈال رکھا ہے لیکن اس کے باوجود عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے تمام اقدامات کیے جارہے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ہر ممبر صوبائی اسمبلی کو دو ،دو کروڑ کے ترقیاتی فنڈ دیے گئے ہیں جس کے استعمال سے پسماندہ علاقوں میں روزگار کے مواقع پید اہوں گے تاہم ان کا یہ بھی کہناتھا کہ صوبے کو فرینڈز آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے اشد امداد درکار ہے۔

XS
SM
MD
LG