رسائی کے لنکس

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن فرزانہ راجہ نے کہا کہ غربت کا درست اندازہ لگانے کے لیےعالمی بینک کے تعاون سے ملک میں غربت شماری کا سروے تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ فرزانہ راجہ کے بقول اب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس 18 کروڑ لوگوں کی تفصیلات موجود ہیں اس لیے مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں حکومت فوری طور پر یہ اندازہ لگا سکے گی کہ متاثرین کو کس سطح اور نوعیت کی امداد درکار ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غربت کے خلاف جنگ میں بھی اس نے گزشتہ چار سال کے دوران نمایاں پیش رفت کی ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی نے 2008 کے اواخر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے نام سےایک طویل المدت منصوبے کا آغاز کیا تھا اور ابتدائی مرحلے میں اس کا مقصد عالمی کساد بازاری اور اندرون ملک مہنگائی میں اضافے کے تناظر میں عام آدمی کی قوت خرید میں مالی اعانت تھا۔

اس پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ کہتی ہیں کہ اس وقت ملک بھر میں 60 لاکھ غریب خاندان یعنی ساڑھے تین سے چار کروڑ افراد اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں اور اس کے تحت خاتون خانہ کو باقاعدگی سے ماہانہ ایک ہزار روپے نقد ادا کیے جاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 103 ارب روپے لوگوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں جن میں نقد رقوم کے علاوہ غربت کے مکمل خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں ان غریب خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے منصوبوں کی لاگت شامل ہے۔

’’اس منصوبے کی روح یہ ہے کہ وصول کنندہ کے لیے خاتون خانہ ہونا شرط ہے۔ اس پالیسی کے تحت خواتین کو بااختیار بنانا ہے تاکہ گھریلو معاملات میں اُن کی رائے کو اہمیت دی جائے اور ہمیں اس مقصد میں بہت حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔‘‘

فرزانہ راجہ کہتی ہیں کہ بی آئی ایس پی کی خوبی یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کے بقول انتظامی اخراجات بمشکل پانچ فیصد ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان غریب خاندانوں میں خاتون خانہ کو تین لاکھ تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ چھوٹے پیمانے پر کوئی کاروبار شروع کرنے میں اسے مدد ملے لیکن کاروبار کی مالک خاتون خانہ ہی ہوگی۔

فرزانہ راجہ کہتی ہیں کہ ان خاندانوں کے نوجوانوں کو، جن کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں، بھی اس منصوبے میں شامل کررہے ہیں اور انھیں ووکیشنل ٹریننگ دے کر اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے لیے روزگار تلاش کرسکیں۔

ان پر اس لیے توجہ دے رہے ہیں کیونکہ روزگار سے محروم ان ناراض نوجوانوں کو انتہا پسند تنظیمیں پیسے کا لالچ دے کر باآسانی گمراہ کرسکتی ہیں۔

’’میں سمجتھی ہیں کہ پاکستان دو متوازی محاذوں پر جنگ کررہا ہے۔ ایک انسداد دہشت گردی کی جنگ جبکہ دوسری غربت کے خلاف جنگ ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں کیونکہ یہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ غربت کے خاتمے کے خلاف بی آئی ایس پی ہمارا خاموش انقلاب ہے جس پہ ہم خاموشی سے کام کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی شفاف انداز میں کام کر رہا ہے اور اس کا ثبوت اس منصوبے کے لیے غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مالی معاونت ہے جو بلا روکاٹ جاری ہے۔

فرزانہ راجہ نے بتایا کہ امریکہ اب تک اس منصوبے کے لیے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر دے چکا ہے جبکہ مزید ساڑھے سات کروڑ ڈالر جلد فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ امریکہ کی طرف سے غربت کے خلاف اس منصوبے کے لیے مالی معاونت سیاسی تعلقات میں کشیدگی سے متاثر نہیں ہوگی۔

غربت اور دہشت گردی ایک دوسرے سے منسلک ہیں

غربت اور دہشت گردی ایک دوسرے سے منسلک ہیں

’’انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کو میں سمجھتی ہوں کسی سطح پر نہیں روکنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غربت کا خاتمہ ضروری ہے۔ اور دہشت گردی تو ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اس لیے ہمیں اس کے اسباب پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ طاقت کے ذریعے یا جنگ کے ذریعے اس انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ غربت کا درست اندازہ لگانے کے لیےعالمی بینک کے تعاون سے ملک میں غربت شماری کا سروے تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ فرزانہ راجہ کے بقول اب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس 18 کروڑ لوگوں کی تفصیلات موجود ہیں اس لیے مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں حکومت فوری طور پر یہ اندازہ لگا سکے گی کہ متاثرین کو کس سطح اور نوعیت کی امداد درکار ہے۔

فرزانہ راجہ کا کہنا ہے کہ سروے میں ملک کے ہر حصے کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے بھی شامل ہیں البتہ کچھ حصوں بشمول شمالی وزیرستان کے بعض علاقوں میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے سروے ٹیمیں ابھی وہاں نہیں جاسکی ہیں۔

اُن کے بقول بی آئی ایس پی سے اس وقت لگ بھگ چار کروڑ لوگ مستفید ہو رہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں کوئی بھی سیاسی حکومت قلم کی ایک جنبش سے اس منصوبے کو ختم کرکے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ناراضگی مول لینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG