رسائی کے لنکس

سحر و افطار پر لوڈشیڈنگ کی وجہ تکنیکی مسائل ہیں: وزیر پانی و بجلی


وفاقی وزیر خواجہ آصف (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر خواجہ آصف (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بجلی کی موجودہ قلت کو 3600 میگا واٹ تک کم کردیا گیا ہے۔

توانائی کے شدید بحران کے شکار ملک پاکستان رمضان کے مہینے میں خصوصاً بعض علاقوں میں سحر و افطار کے وقت بجلی کی بندش کے باعث لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کو بہت حد تک کم کرتے ہوئے صورتحال میں ماضی کی نسبت بہتری لائی گئی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بجلی کی موجودہ قلت کو 3600 میگا واٹ تک کم کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سحر و افطار کے وقت جن علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے وہاں بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر ایسی صورتحال کا سامنا ہے۔

حکومت نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا پانچ سو ارب روپے کے زیر گردش قرضوں میں سے 326 ارب روپے ادا کردیے ہیں جس کے بعد حکومتی عہدیداروں کے مطابق بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے میں کسی حد تک مدد ملی ہے۔

ماہ رمضان سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ گردشی قرضوں میں ادائیگی کے بعد سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی جب کہ باقی کے اوقات میں بھی اس کے دورانیہ کو بتدریج کم کیا جائے گا۔

رمضان میں بجلی کی بندش کے خلاف لوگوں کی طرف سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
XS
SM
MD
LG