رسائی کے لنکس

بحری جہاز پر نصب دنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر پاکستان پہنچ گیا

  • حسن سید

بحری جہاز پر نصب دنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر پاکستان پہنچ گیا

بحری جہاز پر نصب دنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر پاکستان پہنچ گیا

پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے ترکی سے بحری جہاز پر نصب ایک بجلی گھر کراچی پہنچا ہے جسے بہت جلد قومی گرڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز پر نصب دنیا کا سب سے بڑا پاور جینیریشن پلانٹ ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی کے شہریوں کو اگر لوڈ شیدڈنگ سے نجات نہیں دلائے گا تو ان کی مشکلات میں کمی ضرور کرے گا۔

بجلی گھر کی پیداواری صلاحیت تقریباً دو سو تیس میگا واٹ ہے جسے کورنگی تھرمل پاور پلانٹ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔

کرائے کے اس بجلی گھر سے بجلی حاصل کرنے کے لیے پاکستان اور ترکی کے درمیان تین سال قبل ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی مدت پانچ سال ہے۔

بحری جہاز پر نصب بجلی گھر سے کراچی شہر میں لوڈشیڈنگ کے مسائل بھلے ہی کسی حد تک حل ہو جائیں لیکن اس سے ملک کو درپیش بجلی کے مجموعی بحران میں کسی کمی کی توقع نہیں کیونکہ مبصرین کے مطابق اس بحران کا کوئی فوری حل دکھائی نہیں دیتا اور یہ کہ اس سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے تحت توانائی کے متبادل ذرائع خاص طور پر شمسی توانائی کو ترقی دی جائے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر عطا اللہ شاہ نے کہا ’’ جس رفتار سے ملک کی توانائی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے صرف روائتی ذرائع پر ہی انحصار نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

اس وقت ملک کی توانائی کی ضروریات کا ستر فیصد سے زائد انحصار تیل اور قدرتی گیس پر ہے جس کی درآمد پر ہر سال بھاری زر مبادلہ بھی خرچ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں توانائی کے بحران پر جہاں عوام مایوس اور سراپا احتجاج ہیں وہیں ملک کی اقتصادی سرگرمیاں خاص طور پر صنعتی ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

گیس لوڈ مینجمنٹ کے منصوبے کے تحت صنعتی شعبے کو گیس کی فراہی معطل رکھنے پر مالکان کو شدید پریشانی لاحق ہے اور ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سربراہ اجمل فاروق نے جمعے کو ایک نجی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں کہا ’’ہمارا صنعتی شعبہ جو پہلے ہی بہت سی مشکلات کا شکار ہے اگر اسی طرح مفلوج رہا تو صرف ہمیں ہی نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہمارے ملک اور اس کی معیشت کو بھی بہت نقصان ہوگا‘‘۔

XS
SM
MD
LG