رسائی کے لنکس

بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت ،ماہرین اور امدادی اداروں کی مشاورت

  • حسن سید

بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت ،ماہرین اور امدادی اداروں کی مشاورت

بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت ،ماہرین اور امدادی اداروں کی مشاورت

پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اصلاحاتی پروگرام کے اہداف میں بجلی کی چوری روکنا ، اس کے ضیاع پر قابو پانا، بلوں کی ادائیگی ، واجبات کی وصولی اور سب سے بڑھ کر ملک کی آٹھ پاور ڈسٹریبوشن کمپنیوں کی استعداد کو بڑھانا ہے کیونکہ وفاقی وزیر کے مطابق ان مسائل کی وجہ سے ملک کو ہر سال اڑھائی سو ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے پروگرام پر پاکستانی حکومت نے پیر کو ملکی وغیر ملکی ماہرین اور امدادی اداروں کے ساتھ مشاورت کا آغاز کیا تاکہ ان کی تجاویز کو شامل کرکے اس پروگرام کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

اصلاحات کا مقصد ملک کو توانائی کے سنگین بحران سے نجات دلانا اور بین الا قوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کر کے پاکستان کے لیے گیارہ ارب ڈالر سے زائد قرض کے پیکج کا تسلسل جاری رکھنا ہے۔

دو روزہ ورکشاپ میں عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی ترقی کے لیے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے علاوہ واپڈا، آئیسکو، کیسکو، کے ای ایس سی اور دوسرے ادارے شریک ہیں جن کی سفارشات کو منگل تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔

پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے افتتاحی اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی پروگرام کے اہداف میں بجلی کی چوری روکنا ، اس کے ضیاع پر قابو پانا، بلوں کی ادائیگی ، واجبات کی وصولی اور سب سے بڑھ کر ملک کی آٹھ پاور ڈسٹریبوشن کمپنیوں کی استعداد کو بڑھانا ہے کیونکہ وفاقی وزیر کے مطابق ان مسائل کی وجہ سے ملک کو ہر سال اڑھائی سو ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔” ملک اور معیشت اس نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتے“۔

وفاقی وزیر نے بتایا کے پروگرام کے تحت نیپرا کو مزید مستحکم بنانے کے علاوہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کواپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خودمختاری کے ساتھ ساتھ خصوصی اہداف دیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کو بہتر انداز میں سستی بجلی کی سہولت میسر آسکے۔

راجہ پرویز اشرف

راجہ پرویز اشرف

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اگلے دس سالوں میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے اور ان کے بقول ” یہی وقت ہے کہ فیصلے کیے جائیں چاہے یہ مشکل ہوں یا آسان“ ۔

حالیہ برسوں کے دوران بجلی کے نرخوں میں وقتا ًفوقتاً اضافے پر موجودہ حکومت کو تنقید کا سامنا رہاہے جبکہ مہنگائی اور لوڈ شیدڈنگ کے ہاتھوں پریشان عوام میں بھی اس پر غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

حال ہی میں بجلی کے نرخوں میں مزید دو فیصد اضافے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں اگلے دس ماہ کے دوران نرخوں میں متواتر اضافے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ خسارے کو پورا کیا جا سکے۔

اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کے ان کی حکومت کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ مشکل ترین سیاسی فیصلہ ہوتا ہے اور یہ صرف تب کیا جاتا ہے جب کوئی اور چارہ نہ ہو۔ انھوں نے آنے والے دنوں میں بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کے امکان کو خارج نہیں کیا۔

امتیاز قزلباش واپڈا کے ایک سابق سینئر عہدیدار ہیں جو اصلاحاتی پروگرام پر منعقد ہ ورکشاپ میں شرکت کر رہے اور ان کا کہنا ہے حکومت بجلی کے شعبے کی بہتری کے لیے جو بھی اقدامات کرنے جا رہی ہے ان کی کامیابی کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا۔ تاہم ان کی رائے میں اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ حکومت آگے چل کر سستی بجلی فراہم کر پائے گی۔

بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت ،ماہرین اور امدادی اداروں کی مشاورت

بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے حکومت ،ماہرین اور امدادی اداروں کی مشاورت

”اس وقت بجلی کی قیمت فی یونٹ چودہ روپے تک پہنچ چکی ہے جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا اور یہ صرف اس لیے ہوا ہے کہ ستر کی دہائی کے بعد سے پانی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی اور نا ہی بڑے ڈیم بنائے گئے“۔

راجہ پرویز اشرف الزام عائد کرتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2003ء سے2007ء تک ”مصنوعی“ طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافے کو روک کر رکھا جس کی وجہ اداروں کے درمیان واجب الادا قرض چار سو ارب روپے تک پہنچ چکاہے۔

XS
SM
MD
LG