رسائی کے لنکس

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختلف کمپنیوں میں سے کسی ایک کا شفاف انداز میں جلد از جلد انتخاب ممکن بنایا جائے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت میں تاخیر کا سبب بننے والے سرکاری قوائد و ضوابط کو سہل بنایا جائے۔

اُنھوں نے یہ ہدایت صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے دوران کی۔

بلوچستان کے شہر حب میں ہونے والے اجلاس میں منصوبے کے لیے زمین اور بنیادی وسائل کی دستیابی سمیت مخلتف اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس منصوبے پر لگ بھگ 14 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ گڈانی پاور پارک منصوبے کے تحت کل 10 بجلی گھروں کی تنصیب کی جائے گی، جن کی مجموعی پیداوار 6,600 میگا واٹ ہو گی۔

منصوبے کے تحت آٹھ بجلی گھر نجی شعبے جب کہ بقیہ دو حکومت کی زیرِ نگرانی ہوں گے، تاہم اجلاس میں شریک وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بقول اگر نجی کمپنیوں نے زیادہ بجلی گھروں کی تنصیب میں دلچسپی ظاہر کی تو اُن کو ترجیح دی جائے گی۔

گڈانی پاور پارک سے منسلک عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اگر اس منصوبے پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری رہا تو بجلی کی ترسیل سے متعلق نظام کی تعمیر پر کام کا آغاز دسمبر جب کہ پہلے بجلی گھر کی تنصیب کا آغاز آئندہ برس مارچ میں ممکن ہو جائے گا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس منصوبے کو جلد از جلد پایہہ تکمیل تک پہنچانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت میں تاخیر کا سبب بننے والے سرکاری قوائد و ضوابط کو سہل بنایا جائے۔

’’قوائد و ضوابط کو سہل بنائیں تاکہ شفاف انداز میں آپ ایک ہفتے میں فیصلہ کر سکیں کہ ہم نے اس چار یا 10 میں سے ہم نے اس کمپنی کو (کسی منصوبے کے لیے) منتخب کیا ہے۔‘‘

وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت اس منصوبے سے متعلق اپنا کام جلد از جلد مکمل کرے تاکہ نجی شعبے کو اس میں شرکت کے لیے راغب کیا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گڈانی پاور پارک کے لیے ساحل کے قریب 5,000 ایکٹر رقبے کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کے لیے مجوزہ زمین مہیا کرنے کے علاوہ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں بھی دلچسسپی رکھتی ہے۔

’’اس طرح ہم سیاسی تنقید سے بھی بچ جائیں گے، ہماری سرمایہ کاری بھی ہو گی اور ہم نفسیاتی طور پر بھی نارمل ہو جائیں گے، یہ نہیں ہو گا کہ اس (وزیرِ اعلیٰ) نے اپنا ضمیر بیچ دیا۔‘‘

وزیرِ اعظم نے عبدالماک بلوچ کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔

پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور 11 مئی کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت صورتِ حال میں بہتری کے لیے نجی شعبے میں بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو واجب الادا زیرِ گردش قرضوں کی مدد میں 480 ارب روپے کی ادائگی کر چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG