رسائی کے لنکس

نواز شریف ہفتہ کو افغانستان کا دورہ کریں گے: وزارتِ خارجہ

  • یاسر علی منصوری

نواز شریف اور افغان صدر کرزئی (فائل فوٹو)

نواز شریف اور افغان صدر کرزئی (فائل فوٹو)

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق افغانستان میں آئندہ برس کے اوائل میں صدارتی انتخاب اور 2014ء کے اختتام تک امریکی اور دیگر بین الاقوامی افواج کے وہاں سے انخلا کے تناظر میں وزیرِ اعظم یہ دورہ انتہائی اہم وقت پر کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف ہفتہ کو افغانستان کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں صدر حامد کرزئی کے ساتھ اُن کے مذاکرات میں دوطرفہ اُمور کے علاوہ علاقائی و عالمی معاملات پر مفصل انداز میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

جون میں وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا افغانستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، جس کی دعوت انھیں افغان صدر نے دی تھی۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق افغانستان میں آئندہ برس کے اوائل میں صدارتی انتخاب اور 2014ء کے اختتام تک امریکی اور دیگر بین الاقوامی افواج کے وہاں سے انخلا کے تناظر میں نواز شریف یہ دورہ انتہائی اہم وقت پر کر رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے وائس آف امریکہ سے جمعہ کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے قیام سے متعلق اُمور وزیر اعظم نواز شریف اور صدر حامد کرزئی کی ملاقات کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہوں گے۔

’’اس میں ہماری دلچسپی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ افغانستان میں 2014ء میں جو صورت حال بنے گی ہم چاہتے ہیں کہ اس میں کوئی سیاسی خلا پیدا نا ہو تاکہ افغانستان میں پر امن فضا قائم ہو سکے اور خود افغانستان کے اپنے لوگ بیٹھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘‘

اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ افغانستان میں امن ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

’’اس لیے پاکستان اس (مصالحتی عمل) میں بھرپور تعاون کرے گا اور یہ معاملہ وہاں پر دونوں قائدین کے درمیان زیرِ بحث آئے گا۔‘‘

افغانستان کی اعلٰی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کی قیادت میں ایک وفد نے رواں ماہ اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے مزید تین افغان قیدیوں کو رہا کیا۔

پاکستان اب تک 37 طالبان قیدیوں کو مختلف مراحل میں رہا کر چکا ہے، جن میں افغان طالبان کے سابق نائب امیر ملا عبد الغنی برادر بھی شامل ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ کابل میں دوطرفہ تجارت کے فروغ پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

’’ہمارا ایک اہم رشتہ تجارت اور اقتصادی رابطوں کا ہے ... ہماری خواہش ہو گی کہ اس میں مزید اضافہ ہو اور افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ پر بھی بات ہو گی۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم اس وقت تقریباً ڈھائی ارب ڈالر ہے اور دونوں ممالک نے اس کو 2015ء تک پانچ ارب ڈالر کی سطح تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG