رسائی کے لنکس

پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوئی، بحرانوں کا مقابلہ کر سکتی ہے: صدر ممنون


انھوں نے حزب مخالف پر زور دیا کہ وہ مثبت انداز میں حکومت پر تنقید کرے جس سے ان کے بقول حکومت کو بہتر پالیسی بنانے میں مدد سکے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا کہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اس حد تک مضبوط ہو گئی ہے کہ یہ مختلف بحرانوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی، مستحکم جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں۔

صدر نے کہا کہ موجودہ پارلیمان کے جمہوری سفر کے تین سالوں کی تکمیل قوم کی سیاسی بالغ نظری کا ثبوت ہے اور سیاسی بلوغت کی جانب یہ ایک بڑی قومی پیش رفت ہے۔

"گزشتہ تین برسوں کے دوران نرم گرم اور تلخ و شیریں ہر طرح کے ماحول میں ہمارا یہ سفر جاری رہا، اب یہ قوم کے ہر فرد، ہر طبقے اور ہر ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی زندگی میں فروغ پانے والے اس مثبت رجحان کو توانا اور قومی بنانے کے مشن میں شامل رہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے ذریعے ہی عوام کے معیار زندگی میں بہتری اور نظام کو استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔

"جو حکومتیں فرد اور ریاست کے تعلق کی اس نوعیت کو سمجھ کر قانون کی یکساں حکمرانی، معاشی ترقی اور عوام کو ان کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو یقینی بنا دیتی ہیں ایسی حکومتیں مشکل حالات سے باآسانی گزر کر نظام اور جمہوریت کے استحکام کا ذریعہ بنتی ہیں۔۔۔ میں چاہوں گا کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو وہ اپنی پالیسیاں اس آزمودہ اصول کی روشی میں ترتیب دیں تاکہ جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط ہوں اور پاکستانی عوام آسودگی اور خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں۔"

انھوں نے حزب مخالف پر زور دیا کہ وہ مثبت انداز میں حکومت پر تنقید کرے جس سے ان کے بقول حکومت کو بہتر پالیسی بنانے میں مدد سکے۔

"حزب اختلاف کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تنقید کرتے ہوئے بابائے قوم کی اس ہدایت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھے کہ حزب مخالف یا کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ منتخب حکومت پر غیرقانونی طریقے سے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرے۔ قائد اعظم کے بتائے ہوئے اس رہنما اصول میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ضد اور ذاتی اختلافات کو قومی مفادات پر غالب نہ آنے دیا جائے۔"

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ یہ تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔

ان کے بقول پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور عالمی امور میں دیانتداری سے شمولیت کا خواہاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور پاکستان وہاں امن و مصالحت کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

"پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے افغانستان کا امن ناگزیر ہے اور یہ مقصد فریقین کے مابین مکمل مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کی تحریک پر ہی چار ملکی تعاون گروپ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت میں معاونت کر رہا ہے۔۔۔افغانستان میں رونما ہونے والے حالیہ چند واقعات کی وجہ سے ان کوششوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن ہمیں توقع ہے کہ یہ کوششیں جلد کامیاب ہوں گی۔"

ممنون حسین نے اس موقع پر چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں اور انھیں متعدد ملکوں کے سربراہان نے بھی یہ بتایا کہ یہ اشتراک خود ان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔

اربوں ڈالر کے اس راہداری منصوبے سے پاکستانی عہدیداروں کے مطابق وسطی و جنوبی ایشیا کے ممالک اور عوام مستفید ہو سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG