رسائی کے لنکس

صدر ممنون حسین کا جنوبی وزیرستان کا دورہ

  • شمیم شاہد

فوجی آپریشن کے بعد جنوبی وزیرستان کے بیشتر علاقوں پر حکومت کی عمل داری بحال کر دی گئی اور علاقے میں بہت سے تعمیراتی کاموں کا بھی آغاز کیا گیا۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے پیر کو قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا، جہاں اُنھوں نے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ ایک تعلیمی ادارے میں نوجوانوں سے بھی ملاقات کی۔

حالیہ برسوں میں کسی بھی صدر پاکستان کا جنوبی وزیرستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

صدر ممنون حسین کے ہمراہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا بھی جنوبی وزیرستان گئے۔

جنوبی وزیرستان میں 2009ء میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن کیا گیا جس کی وجہ اس علاقے سے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

فوجی آپریشن کے بعد جنوبی وزیرستان کے بیشتر علاقوں پر حکومت کی عمل داری بحال کر دی گئی اور علاقے میں بہت سے تعمیراتی کاموں کا بھی آغاز کیا گیا۔

اگرچہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے بہت سے خاندان واپس جا چکے ہیں لیکن اب بھی بہت سے افراد صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صدر مملکت اس دورے کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن بحال ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اب بھی فوجی آپریشن کا آخری مرحلہ جاری ہے۔

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے بارے میں عسکری کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اب پہاڑی علاقے شوال سے شدت پسندوں کی صفائی کے لیے زمینی دستے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG